امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ میں پانچ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے گئے تھے، جس نے ایٹمی جنگ کے خطرے کو روکا۔ وہ واضح کر چکے کہ اگر بروقت مداخلت نہ ہوتی تو حالات مزید بگڑ سکتے تھے۔ بھارت نے پہلگام حملے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر لگایا، تاہم پاکستان نے معاملے کی غیر جانبدار تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی۔ٹرمپ نے حملے کی مذمت کی تھی لیکن بھارتی دعوے کی حمایت نہ کی۔ بھارت نے اس پر بھی الزام لگایا کہ انہوں نے پاکستانی طیارے مار گرائے، جبکہ پاکستان نے یہ الزام مسترد کیا۔جنگ بندی کے مرحلے میں ٹرمپ نے دونوں ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت کے بعد جنگ روکنے پر آمادہ کیا، اور کہا کہ اگر جنگ بند نہ ہوتی تو امریکا دونوں ممالک سے تجارت ختم کر دے گا۔ انہوں نے کشمیر مسئلے کے حل کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔ پاکستان نے اس کی تحریک کو سراہتے ہوئے صدر ٹرمپ کے کردار کو نوبیل امن انعام کے حقدار قرار دیا۔ بھارت نے اس پر ردعمل ظاہر کیا اور انکار کیا کہ کوئی طیارے مار گرائے گئے ہیں۔ یہ واقعہ دوبارہ یاد دہانی کراتا ہے کہ خطرہ امن کسی بھی وقت غیرذمہ دارانہ اقدامات کے سبب خطرے میں ہو سکتا ہے، اور عالمی طاقتوں کا بروقت اور متوازن کردار کتنا اہم ہو سکتا ہے۔







Discussion about this post