وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حالیہ طبی معائنے کے بعد ٹانگوں کی سوجن کے باعث "کرونک وینز انسفیشنسی” (Chronic Venous Insufficiency) نامی ایک دائمی مگر غیر سنگین رگوں کی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ 79 سالہ صدر کی ٹانگوں کی رگیں خون کو دل تک مؤثر طریقے سے واپس پہنچانے میں قدرے ناکام ہو رہی ہیں، جو کہ ایک عام عمر رسیدہ افراد میں پائی جانے والی حالت ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ صدر کے ہاتھ پر نظر آنے والا نیل دراصل سافٹ ٹشوز کی ہلکی سوزش کا نتیجہ ہے، جو زیادہ تر ہاتھ ملانے کی عادت اور روزمرہ بنیاد پر اسپرین کے استعمال کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اسپرین صدر کی دل کی صحت کے لیے معمول کی دوا ہے۔ صدر ٹرمپ کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا، جس میں خون کی نالیوں کا تفصیلی تجزیہ اور دونوں ٹانگوں کا وینز ڈوپلر الٹراساؤنڈ شامل تھا، جس سے بیماری کی باقاعدہ تصدیق ہوئی۔ کیرولین لیوٹ نے مزید بتایا کہ کسی قسم کے خون جمنے، شریانوں کی بندش، ہارٹ فیلیئر، گردوں کی خرابی یا کسی پیچیدہ مرض کے آثار نہیں پائے گئے۔ تمام رپورٹس نارمل حد میں ہیں اور صدر کا دل معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ رواں برس جنوری میں صدر ٹرمپ نے دوسری مدتِ صدارت کا آغاز کرتے ہوئے 81 سالہ جو بائیڈن کی جگہ لی اور امریکی تاریخ کے سب سے عمر رسیدہ صدر بنے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، صدر کی صحت مستحکم ہے اور وہ اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے رہے ہیں۔







Discussion about this post