صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جاری خونریز تنازع پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی "آئندہ ہفتے کے اندر” ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا، "میری بات اُن لوگوں سے ہوئی ہے جو دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں — ہم جنگ بندی کے بہت قریب ہیں۔” ٹرمپ کا یہ بیان وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں کانگو اور روانڈا کے مابین امن معاہدے کی تقریب کے دوران سامنے آیا۔ انہوں نے غزہ کی سنگین صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "مجھے امن قائم کرنے میں خوشی ہوتی ہے۔” ان کے اس بیان کو عالمی حلقوں میں ایک مثبت اشارہ تصور کیا جا رہا ہے کہ امریکا اس تنازع کے حل کے لیے پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، حالانکہ انہوں نے ان مذاکرات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

کینیڈا پر تجارتی وار، ایران پر ممکنہ حملے کا عندیہ
اسی پریس بریفنگ میں صدر ٹرمپ نے عالمی معاملات پر جارحانہ مؤقف اپناتے ہوئے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات فوری ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ’’کینیڈا نے ہماری ڈیری مصنوعات پر 400 فیصد ٹیرف عائد کر کے امریکا پر واضح اقتصادی حملہ کیا ہے۔‘‘ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ آئندہ 7 روز میں کینیڈا پر اضافی تجارتی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ ان کے بقول، ’’کینیڈا یورپی یونین کی نقل کر رہا ہے، جس پر پہلے ہی بات چیت ہو رہی ہے۔‘‘ ایران پر بات کرتے ہوئے سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ ایرانی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔ ’’اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ حملے سے گریز نہیں کریں گے،‘‘ ٹرمپ نے کہا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی فضائیہ نے 52 ہزار فٹ کی بلندی سے ایرانی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور یہ آپریشن ’’آسان نہیں تھا لیکن مکمل کامیابی سے ہمکنار ہوا‘‘۔
بین الاقوامی سطح پر امن کے دعوے
صدر ٹرمپ نے خود کو عالمی امن کا معمار قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ہم نے اسرائیل–ایران کشیدگی کم کی، پاک–بھارت تناؤ میں نرمی لائی، اور کانگو–روانڈا کے 30 سالہ تنازع کو ختم کرایا۔” انہوں نے زور دیا کہ اب غزہ میں بھی امن قائم کرنے کے قریب ہیں۔







Discussion about this post