مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری حساس مذاکرات میں ایک دلچسپ اشارہ دیا ہے کہ کل کچھ ایسا حیران کن پیش رفت سامنے آ سکتی ہے جو سب کے منہ کھلا کر دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابھی کچھ گھنٹے پہلے ہی انہیں مشرق وسطیٰ سے بہت اچھی خبر ملی ہے اور ایران کے ساتھ سب کچھ نہایت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا، "آپ جلد ہی اس بارے میں سننے والے ہیں۔”صدر ٹرمپ نے بتایا کہ کل ایک "بہت ذہین اور قابل شخصیت” وائٹ ہاؤس آ رہی ہے ، ایک ایسی شخصیت جو اپنے ملک کے ساتھ ساتھ دنیا کے دوسرے ممالک کے مفادات کا بھی خیال رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی ظاہر کیا کہ کل صبح وائٹ ہاؤس میں ایک اہم نیوز کانفرنس ہوگی جس میں سوالات کا رخ ایران کی طرف ضرور جائے گا۔ ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں امریکا ایران کو کوئی مالی امداد یا پیسہ نہیں دے گا۔ اگر بدھ تک طویل مدتی امن معاہدہ طے نہ پایا تو جنگ بندی ختم کر دی جائے گی۔

ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی کامیابی سے جاری ہے اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ بمباری بھی شروع کی جا سکتی ہے۔ تاہم، ان کا زور اس بات پر تھا کہ ڈیل کا عمل اچھی طرح جاری ہے اور بہت سے معاملات پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کی طرف سے اپنے لوگوں کو دی جانے والی مختلف بیان بازی کا بھی ذکر کیا اور کہا، "میں صرف سیدھی اور سچی بات کر رہا ہوں۔” ان کے مطابق حتمی فیصلہ خود وہ کریں گے جبکہ ان کے نمائندے مذاکرات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ تمام اشارے خطے میں ایک بڑی پیش رفت کی امید جگانے والے ہیں جہاں امن کی ایک نئی صبح طلوع ہو سکتی ہے، مگر اس کے لیے ایران کو ٹرمپ کی شرائط پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ کل کا دن مشرق وسطیٰ کی سیاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔







Discussion about this post