وفاقی حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو باقاعدہ طور پر کالعدم تنظیم قرار دیتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے نزدیک ٹی ایل پی دہشت گردی میں ملوث پائی گئی ہے، لہٰذا اسے انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت پابندی کی فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تنظیم پر پابندی کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 2016 میں قائم ہونے والی ٹی ایل پی ملک بھر میں پُرتشدد احتجاجی مظاہروں اور شرانگیزی کی کارروائیوں میں ملوث رہی ہے، جن کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا نے اعلان کیا کہ وزارتِ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد فیصلہ نافذالعمل ہوچکا ہے، اور اس پابندی کے نفاذ کے لیے سپریم کورٹ کی منظوری درکار نہیں۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی کے خلاف باضابطہ ریفرنس وفاق کو ارسال کیا تھا، جس پر چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب نے کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی۔اس فیصلے کو ریاستی سلامتی اور امنِ عامہ کے تناظر میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔







Discussion about this post