وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے، چیزوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ چینی کی قیمت 200 روپے فی کلو تک کیوں پہنچ گئی؟ جس پر انہوں نے کہا کہ قیمتیں اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں۔ وزیر خزانہ نے تاجروں کو اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ ہڑتال کے معاملے پر کل صنعتکاروں سے ملاقات ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کسی کو اکیلے گرفتار نہیں کر سکتا، تین افسران پر مشتمل کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اخراجات میں کمی کی ہے اور مالی حالات کے مطابق تنخواہ دار افراد کو ریلیف دیا گیا ہے۔ کوشش ہے کہ ملازمین کے ٹیکس کم کیے جائیں۔ ٹیکس ریٹرن فارم کو بھی آسان بنایا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت ہر ماہ ضروری اشیاء کی قیمتوں پر نظر رکھ رہی ہے، جبکہ فارما انڈسٹری اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے۔ چھوٹے اور نئے گھروں کے لیے سبسڈی بھی دی جا رہی ہے۔ مورگیج فنانسنگ کے لیے بینکوں سے بات ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس میں فراڈ روکنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، اور معیشت کو بہتر بنانے کے لیے بینکنگ سیکٹر کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔







Discussion about this post