مرکزی بینک کے مطابق فراڈیے فون کال یا میسج کے ذریعے یہ تاثر دیتے ہیں کہ انہوں نے غلطی سے رقم بھیج دی ہے، اور پھر متاثرہ شخص کو فوراً رقم واپس کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ایسے کیسز میں جعلی میسجز، اسکرین شاٹس یا پریشر ٹیکٹکس استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ شہری گھبراہٹ میں رقم ٹرانسفر کر دیں۔اسٹیٹ بینک نے واضح ہدایت جاری کی ہے کہ اگر کسی نامعلوم شخص کی رقم کسی اکاؤنٹ میں آجائے تو شہری خود رقوم واپس نہ کریں بلکہ فوری طور پر متعلقہ بینک برانچ یا ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل فراڈ میں تیزی آ رہی ہے، لہٰذا اپنی ذاتی معلومات، اکاؤنٹ ڈیٹا اور او ٹی پی کسی کو نہ دیا جائے چاہے وہ خود کو بینک افسر ہی ظاہر کرے۔
ترجمان اسٹیٹ بینک نے کہا کہ فراڈیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، لیکن شہریوں کی احتیاط ہی سب سے مؤثر دفاع ہے۔







Discussion about this post