مالدیپ نے تاریخ رقم کر دی۔دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے آئندہ نسلوں کے لیے تمباکو نوشی کو ہمیشہ کے لیے غیر قانونی قرار دے دیا۔ تمباکو کے خلاف اس جرات مندانہ فیصلے نے مالدیپ کو عالمی سطح پر صحت دوست پالیسیوں کا علمبردار بنا دیا ہے۔ وزارتِ صحت کے اعلان کے مطابق، نئے قانون کے تحت یکم جنوری 2007 کے بعد پیدا ہونے والے افراد اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی تمباکو مصنوعات خرید، فروخت یا استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اس طرح ملک نے ایک ایسی نسل کی بنیاد رکھی ہے جو ہمیشہ تمباکو سے پاک رہے گی۔یہ قانون صدر محمد معیزو کی جانب سے مئی میں منظور کیا گیا تھا، جس کا مقصد عوامی صحت کے تحفظ اور ایک ”سگریٹ فری نسل“ کی تشکیل ہے۔ وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ قدم نہ صرف ایک قانونی اصلاح ہے بلکہ ایک عزمِ نو ہے کہ آئندہ نسلوں کو تمباکو کے مہلک اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔حکام کے مطابق یہ پالیسی عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول کے اصولوں کے مطابق ہے، جو دنیا بھر میں تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے ایک بین الاقوامی رہنما دستاویز سمجھی جاتی ہے۔
مالدیپ کا یہ اقدام دیگر ممالک کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہےکہ صحت مند معاشرہ تشکیل دینے کے لیے جرات مندانہ فیصلے ناگزیر ہوتے ہیں۔







Discussion about this post