سندھ حکومت نے صوبے میں غیر ملکی جانوروں کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ کراچی چڑیا گھر میں جانوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزیوں پر سامنے آنے والی رپورٹس کے بعد کیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کو فوری اقدامات کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں غیر ملکی جانوروں کی درآمد پر پابندی کے لیے واضح اور سخت قوانین بنائے جائیں تاکہ اس عمل پر مؤثر طور پر قابو پایا جا سکے۔ یہ ہدایات ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی گئیں، جس میں قانون، جنگلات اور وائلڈ لائف کے سیکریٹریز کے ساتھ چیف وائلڈ لائف کنزرویٹر جاوید مہر بھی شریک ہوئے۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ سائنسی یا تحقیقی مقاصد کے علاوہ کسی کو بھی غیر ملکی جانور درآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ پہلے سے موجود جانوروں کی باقاعدہ رجسٹریشن اور مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے۔ وائلڈ لائف کنزرویٹر جاوید مہر نے اجلاس میں بتایا کہ موجودہ قوانین کے باوجود خلاف ورزیاں جاری ہیں اور 2020 سے اب تک 129 وائلڈ لائف سے متعلق مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی مقامات، جن میں کراچی چڑیا گھر بھی شامل ہے، ابھی تک قانونی معیار پر پورا نہیں اترتے۔ انہوں نے جانوروں کے لیے مقرر کردہ معیارات بیان کرتے ہوئے کہا کہ درخواست دہندہ کے پاس کم از کم 400 مربع گز جگہ ہونی چاہیے، جس کا نصف حصہ سبزہ، درختوں، مردہ لکڑی اور مصنوعی چٹانوں کے لیے مخصوص ہو۔ اس کے علاوہ دو کمروں کی موجودگی، سبز فرش، پانی کی نکاسی کا نظام، اور صحن میں تالاب جیسی سہولیات لازمی قرار دی گئیں۔ چیف سیکریٹری نے ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ ایک جامع رپورٹ تیار کرے، اور انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خود سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے تاکہ زیرِ التوا مقدمات کی جلد سماعت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وائلڈ لائف قوانین کی خلاف ورزی ہوئی تو متعلقہ محکمے کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ساتھ ہی، غیر ملکی جانوروں کی آبادی بڑھنے سے روکنے، ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور غیر قانونی ملکیت ختم کرنے کی ذمہ داری بھی وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کو سونپ دی گئی ہے۔ آصف حیدر شاہ نے تمام غیر ملکی جانور رکھنے والوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے جانوروں کی رجسٹریشن کرائیں، ورنہ ان کے خلاف بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ جلد ہی ماہرینِ حیوانات، سول سوسائٹی، ماحولیاتی ماہرین اور حکومتی نمائندوں کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا تاکہ جانوروں کے تحفظ، غیر قانونی تجارت اور خطرے سے دوچار انواع کے مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ چیف سیکریٹری نے اپنے اختتامی بیان میں کہا کہ جانوروں کا تحفظ، ان کے قدرتی رہائش گاہوں کو محفوظ رکھنا اور ان کے ساتھ انسانی سلوک کو یقینی بنانا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق، وائلڈ لائف قوانین کا مؤثر نفاذ ہی سندھ کی قدرتی وراثت کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنا سکتا ہے۔







Discussion about this post