سندھ ہائیکورٹ نے نیپئر روڈ پر دکانیں سیل کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کے بعد دکانوں کو فوری طور پر ڈی سیل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ دکانیں پاکستان کی آزادی سے قبل تعمیر کی گئی تھیں، لیکن حال ہی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے انہیں غیر قانونی قرار دے کر سیل کر دیا۔ وکیل نے بتایا کہ برابر میں موجود عمارت بھی پچاس سال سے زائد پرانی ہے، مگر وہاں کارروائی نہیں کی گئی۔عدالت نے ایس بی سی اے سے استفسار کیا:
"یہ عمارت اتنے برسوں سے موجود ہے، اب آپ کو یاد آیا کہ یہ غیر قانونی ہے؟”
عدالت نے درخواست گزار سے یہ بھی پوچھا کہ کیا انہوں نے دکان کو سڑک پر بڑھا دیا ہے؟ جس پر وکیل نے مؤقف دیا کہ
"ہم نے ایک انچ بھی دکان آگے نہیں بڑھائی۔”
عدالت نے ایس بی سی اے کو ہدایت کی کہ دکان مالکان کی درخواست پر تین ہفتوں میں فیصلہ کیا جائے اور اس دوران دکانیں فوری طور پر کھول دی جائیں۔







Discussion about this post