گلگت بلتستان کے حسین وادی اسکردو سے تعلق رکھنے والے معصوم چہرے اور سادہ دل والے محمد شیراز نے یہ ثابت کر دیا کہ کامیابی صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے بھی ہونی چاہیے۔ یوٹیوب پر روزمرہ زندگی اور علاقے کی خوبصورت ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کر کے شہرت حاصل کرنے والے اس ننھے ستارے نے اپنی آمدنی کو وہ رخ دیا جس نے پورے گاؤں کی تقدیر بدل دی۔ محمد شیراز کے ولاگز ہر عمر کے ناظرین کو مسحور کر دیتے ہیں۔ ان کی معصومانہ باتیں اور قدرتی انداز دیکھنے والوں کے دلوں کو چھو لیتے ہیں۔
View this post on Instagram
مگر حال ہی میں شیراز نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے سب کو حیران بھی کیا اور متاثر بھی۔انسٹاگرام پر شیراز نے ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں سب سے پہلے انہوں نے گاؤں کے ایک پرانے اسکول کی افسوسناک حالت دکھائی۔ بچے زمین پر بیٹھنے پر مجبور تھے، کلاس رومز ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے اور سہولیات کا شدید فقدان تھا۔ پھر ویڈیو کا منظر بدلتا ہے اور وہی اسکول ایک شاندار عمارت میں تبدیل دکھائی دیتا ہے۔ جدید کلاس رومز، کھیل کے میدان اور جھولے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ خواب اگر نیک نیت سے دیکھے جائیں تو حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ شیراز نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا:
"لوگ پوچھتے ہیں کہ سوشل میڈیا سے مجھے کیا ملا؟ تو میرا جواب ہے: ہم نے اپنے گاؤں کا خستہ حال اسکول ایک جدید تعلیمی ادارے میں بدل دیا۔”
شیراز نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں میڈیا پر کام کرنے والا ہر شخص یہ سوچ لے کہ اگر سچے دل سے محنت کی جائے تو کسی ایک گاؤں یا شہر کی تقدیر بدل سکتی ہے، اور کامیابی کا اصل لطف تب ہے جب وہ دوسروں کے کام آئے۔







Discussion about this post