تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

حفیظ اور ثقلین مشتاق کے درمیان لائیو شو میں تکرار

by ویب ڈیسک
فروری 25, 2026
hafiz
Share on FacebookShare on Twitter

سابق کپتان محمد حفیظ اور لیجنڈ اسپنر ثقلین مشتاق کے درمیان ایک لائیو شو میں شاداب خان کے کردار پر ایسی گرم بحث چھڑ گئی کہ کرکٹ شائقین کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ یہ تکرار پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے توازن اور آل راؤنڈرز کی اصل ذمہ داریوں پر تھی، جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تناظر میں اور بھی اہم ہو گئی۔ محمد حفیظ نے سیدھا سوال کیا: شاداب خان بولنگ آل راؤنڈر ہیں یا بیٹنگ آل راؤنڈر؟ شاداب کے سسر ثقلین مشتاق نے فوری طور پر داماد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شاداب دونوں شعبوں میں یکساں مہارت رکھتے ہیں اور انہیں کسی ایک خانے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ وہ دونوں میں اچھے ہیں, بیٹنگ بھی اور بولنگ بھی۔ حفیظ نے بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ ٹیم میں ان کی پہلی ترجیح کیا ہے بیٹنگ یا بولنگ؟ ثقلین نے جواب دیا کہ دونوں میں برابر ہیں۔ حفیظ نے فوراً اعتراض کیا: اگر ایسا ہے تو پھر نمبر پانچ پر کیوں نہیں آتے؟ ثقلین نے وضاحت کی کہ شاداب کو نمبر پانچ پر بھی استعمال کیا جا چکا ہے اور خود انہوں نے انہیں اس پوزیشن پر کھلایا ہے۔ حفیظ نے دوبارہ دباؤ ڈالتے ہوئے پوچھا کہ آپ کے خیال میں وہ بنیادی طور پر بیٹر ہیں یا بولر؟ ثقلین نے کہا کہ شاداب میں بہت پوٹینشل ہے, وہ بیٹنگ بھی کر لیتے ہیں اور حالیہ دو تین میچز میں اپنی بیٹنگ سے ٹیم کو جتوایا ہے، جو ان کے درست انتخاب ہونے کی دلیل ہے۔محمد حفیظ نے اپنی ذاتی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو آل راؤنڈر کہتے تھے، مگر ان کی پہلی ذمہ داری بیٹنگ تھی۔ اگر بیٹنگ نہ چلے تو ان کے آٹھ، چھ یا چار اوورز کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ان کے زمانے میں کپتان واضح کرتے تھے کہ اگر رنز نہ بن رہے تو ون ڈے میں دس اور ٹی ٹوئنٹی میں چار اوور کی ضرورت نہیں۔

Heated exchange between Saqlain Mushtaq and Muhammad Hafeez over Shadab Khan#T20WorldCup #cricket #PAKvENG pic.twitter.com/7vXLxiSp5k

— Urooj Jawed🇵🇰 (@uroojjawed12) February 24, 2026

حفیظ نے مزید کہا کہ شاداب اور محمد نواز کی پہلی ذمہ داری بولنگ ہے، جبکہ صائم کی بیٹنگ۔ اگر کھلاڑی اپنی بنیادی ذمہ داری پوری نہ کریں تو ٹیم میں ان کا کیا مطلب؟ یہ بات ٹیم کے توازن اور انتخاب کی بنیاد پر تھی۔ یہ بحث پاکستان کرکٹ کے اندرونی مسائل، آل راؤنڈرز کی تعریف اور ٹیم سلیکشن کی حکمت عملی پر روشنی ڈالتی ہے۔ شاداب خان کی کارکردگی پر یہ گرما گرمی شائقین میں بھی تقسیم پیدا کر رہی ہے، کچھ ثقلین کی حمایت کر رہے ہیں کہ شاداب ایک مکمل آل راؤنڈر ہیں، جبکہ دوسرے حفیظ کی منطق سے متفق ہیں کہ بنیادی کردار واضح ہونا چاہیے۔ یہ لائیو شو کا لمحہ کرکٹ کی دنیا میں مزید بحث کا باعث بن گیا ہے، جہاں جذبے اور تجزیے کا امتزاج ہمیشہ دلچسپ ہوتا ہے۔

Previous Post

علیمہ خان پارٹی رہنماؤں پر برس پڑیں

Next Post

شناختی کارڈ میں کیو آر کوڈ کا نیا فیچر

Next Post
111

شناختی کارڈ میں کیو آر کوڈ کا نیا فیچر

Discussion about this post

تار نامہ

ispr

معرکہ حق کا ایک سال مکمل، ’ہم ہیں بنیان مرصوص‘ ٹیزر جاری

moshin

اسلام آباد میں اہم سفارتی ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کا کردار زیرِ بحث

fifa 2

ایران کا بڑا فیصلہ، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کی تصدیق

ships and boats in the strait of hormuz

آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں، صفائی میں چھ ماہ لگنے کا خدشہ

coas

امریکا ایران مذاکرات بچانے کیلئے فیلڈ مارشل عاصم منیر غیر معمولی کردار ادا کررہے ہیں، فنانشل ٹائمز

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist