سابق کپتان محمد حفیظ اور لیجنڈ اسپنر ثقلین مشتاق کے درمیان ایک لائیو شو میں شاداب خان کے کردار پر ایسی گرم بحث چھڑ گئی کہ کرکٹ شائقین کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ یہ تکرار پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے توازن اور آل راؤنڈرز کی اصل ذمہ داریوں پر تھی، جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تناظر میں اور بھی اہم ہو گئی۔ محمد حفیظ نے سیدھا سوال کیا: شاداب خان بولنگ آل راؤنڈر ہیں یا بیٹنگ آل راؤنڈر؟ شاداب کے سسر ثقلین مشتاق نے فوری طور پر داماد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شاداب دونوں شعبوں میں یکساں مہارت رکھتے ہیں اور انہیں کسی ایک خانے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ وہ دونوں میں اچھے ہیں, بیٹنگ بھی اور بولنگ بھی۔ حفیظ نے بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ ٹیم میں ان کی پہلی ترجیح کیا ہے بیٹنگ یا بولنگ؟ ثقلین نے جواب دیا کہ دونوں میں برابر ہیں۔ حفیظ نے فوراً اعتراض کیا: اگر ایسا ہے تو پھر نمبر پانچ پر کیوں نہیں آتے؟ ثقلین نے وضاحت کی کہ شاداب کو نمبر پانچ پر بھی استعمال کیا جا چکا ہے اور خود انہوں نے انہیں اس پوزیشن پر کھلایا ہے۔ حفیظ نے دوبارہ دباؤ ڈالتے ہوئے پوچھا کہ آپ کے خیال میں وہ بنیادی طور پر بیٹر ہیں یا بولر؟ ثقلین نے کہا کہ شاداب میں بہت پوٹینشل ہے, وہ بیٹنگ بھی کر لیتے ہیں اور حالیہ دو تین میچز میں اپنی بیٹنگ سے ٹیم کو جتوایا ہے، جو ان کے درست انتخاب ہونے کی دلیل ہے۔محمد حفیظ نے اپنی ذاتی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو آل راؤنڈر کہتے تھے، مگر ان کی پہلی ذمہ داری بیٹنگ تھی۔ اگر بیٹنگ نہ چلے تو ان کے آٹھ، چھ یا چار اوورز کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ان کے زمانے میں کپتان واضح کرتے تھے کہ اگر رنز نہ بن رہے تو ون ڈے میں دس اور ٹی ٹوئنٹی میں چار اوور کی ضرورت نہیں۔
Heated exchange between Saqlain Mushtaq and Muhammad Hafeez over Shadab Khan#T20WorldCup #cricket #PAKvENG pic.twitter.com/7vXLxiSp5k
— Urooj Jawed🇵🇰 (@uroojjawed12) February 24, 2026
حفیظ نے مزید کہا کہ شاداب اور محمد نواز کی پہلی ذمہ داری بولنگ ہے، جبکہ صائم کی بیٹنگ۔ اگر کھلاڑی اپنی بنیادی ذمہ داری پوری نہ کریں تو ٹیم میں ان کا کیا مطلب؟ یہ بات ٹیم کے توازن اور انتخاب کی بنیاد پر تھی۔ یہ بحث پاکستان کرکٹ کے اندرونی مسائل، آل راؤنڈرز کی تعریف اور ٹیم سلیکشن کی حکمت عملی پر روشنی ڈالتی ہے۔ شاداب خان کی کارکردگی پر یہ گرما گرمی شائقین میں بھی تقسیم پیدا کر رہی ہے، کچھ ثقلین کی حمایت کر رہے ہیں کہ شاداب ایک مکمل آل راؤنڈر ہیں، جبکہ دوسرے حفیظ کی منطق سے متفق ہیں کہ بنیادی کردار واضح ہونا چاہیے۔ یہ لائیو شو کا لمحہ کرکٹ کی دنیا میں مزید بحث کا باعث بن گیا ہے، جہاں جذبے اور تجزیے کا امتزاج ہمیشہ دلچسپ ہوتا ہے۔







Discussion about this post