ملک بھر میں تقریباً تین ہفتوں کی طویل بندش کے بعد آج یکم اپریل سے تعلیمی اداروں کے دروازے دوبارہ کھل گئے ہیں، جس سے لاکھوں طلبہ اور طالبات کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے پیدا ہونے والے شدید ایندھن کے بحران کے پیش نظر حکومت نے 10 مارچ سے 31 مارچ تک تمام اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ عیدالفطر کی تعطیلات بھی اسی بندش کے دوران شامل رہیں، جس کی وجہ سے طلبہ کو کافی عرصہ گھر پر رہنا پڑا۔ اب صورتحال معمول پر آتے ہی یکم اپریل سے تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہو گئی ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بھی ملک بھر کی سرکاری اور نجی جامعات میں آج سے فزیکل کلاسز دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے چھٹیوں کو 15 اپریل تک بڑھانے کی افواہیں زوروں پر تھیں، تاہم حکومت نے ان تمام خبروں کو صاف صاف بے بنیاد قرار دے دیا اور واضح پیغام دیا کہ یکم اپریل سے تمام تعلیمی ادارے کھل جائیں گے۔

محکمہ تعلیم سندھ نے بھی تصدیق کی ہے کہ اب تعلیمی عمل معمول کے مطابق جاری رہے گا اور تمام طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ کراچی سمیت صوبے بھر کے بیشتر سکولوں کا ٹائم صبح آٹھ بجے سے دوپہر ڈیڑھ بجے تک رہے گا۔ اسٹیرنگ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق صوبے میں تعلیمی سال آج سے باقاعدہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت اب سکولوں میں ہفتہ اور اتوار کو دو دن کی تعطیل ہوگی۔ ہفتہ کی تعطیل کا یہ فیصلہ حکومت کے اگلے حکم نامے تک جاری رہے گا۔ طویل بندش کے باعث طلبہ اور والدین کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن اب تعلیم کا یہ سفر دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔ امید ہے کہ طلبہ اپنی پڑھائی میں پیچھے رہ جانے والے نصاب کو جلد از جلد پورا کر لیں گے اور تعلیمی میدان میں نئی رفتار اور جوش کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔







Discussion about this post