اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ میں 16 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے کیس کی کارروائی کی، جہاں مرکزی ملزم عمر حیات کو پولیس کی سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزم کو مقدمے کا مکمل چالان اور اس کی نقول فراہم کر دیں اور حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ملزم پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کی جائے گی۔ اس سلسلے میں عدالت نے 20 ستمبر کی تاریخ مقرر کردی۔ پولیس کے مطابق یہ مقدمہ تھانہ سنبل میں درج کیا گیا تھا۔ تفتیشی رپورٹ کے مطابق ملزم عمر حیات نے اعتراف کیا کہ اس نے ذاتی جھگڑے اور اختلافات کے باعث ثنا یوسف کو ان کے گھر میں گھس کر گولیاں مار کر قتل کیا۔ ثنا یوسف، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر ایک متحرک اور مشہور چہرہ تھیں، کی اچانک موت نے ان کے چاہنے والوں کو غمزدہ کردیا۔

سول سوسائٹی اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی اور قاتل کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور چالان میں ٹھوس شواہد موجود ہیں، اس لیے آئندہ سماعتوں میں مقدمہ تیزی سے آگے بڑھنے کی توقع ہے۔ عدالت کی جانب سے فردِ جرم عائد ہونے کے بعد کیس باقاعدہ ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہوگا۔







Discussion about this post