اسلام آباد میں 17 سالہ سوشل میڈیا اسٹار ثنا یوسف کے قتل کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آگئی ہے۔ پراسیکیوشن نے مقدمے کے چالان کی اسکروٹنی مکمل کرلی ہے، جس میں عمر حیات کو ہی اس المناک واردات کا مرکزی قاتل قرار دیا گیا ہے۔ اسکروٹنی مکمل ہونے کے بعد چالان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد بھیج دیا گیا ہے اور امکان ہے کہ موسمِ گرما کی تعطیلات ختم ہوتے ہی کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع کردیا جائے گا۔

31 گواہان کی فہرست تیار
پراسیکیوشن کی جانب سے جمع کرائے گئے چالان میں 31 گواہان کو شامل کیا گیا ہے، جن میں مقتولہ کی فیملی کے افراد، ڈاکٹر، پولیس افسران اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اسکروٹنی ٹیم نے ایک ماہ سے زائد عرصے تک تمام شواہد اور بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ چالان میں یہ بھی درج ہے کہ ملزم عمر حیات نے مجسٹریٹ کے سامنے قتل کا اعتراف کیا تھا۔
پس منظر
یاد رہے کہ یہ اندوہناک واقعہ 2 جون کو پیش آیا تھا، جب اسلام آباد میں مقیم نوجوان ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو ان کے گھر میں گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ ابتدائی طور پر پولیس نے نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا، تاہم مقتولہ کی والدہ فرزانہ یوسف کی مدعیت میں سمبل پولیس اسٹیشن میں دفعہ 302 (ارادی قتل) کے تحت کیس درج کرکے تکنیکی شواہد کی بنیاد پر عمر حیات کو گرفتار کرلیا گیا۔
سوشل میڈیا پر شہرت
ثنا یوسف سوشل میڈیا پر تیزی سے ابھرتی ہوئی ایک معروف شخصیت تھیں۔ ان کے ٹک ٹاک پر تقریباً 8 لاکھ فالوورز جبکہ انسٹاگرام پر 5 لاکھ سے زائد مداح موجود تھے۔







Discussion about this post