سعودی عرب نے ایک بار پھر اپنی دیرینہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے 90 برس کے نامور اور قدامت پسند عالمِ دین، شیخ صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان کو ملک کا نیا مفتیِ اعظم نامزد کر دیا۔ سرکاری اعلان کے مطابق یہ تقرری شاہی فرمان کے ذریعے عمل میں آئی ہے ایسے وقت میں جب مملکت تیز رفتار سماجی و معاشی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔شیخ صالح بن فوزان اُس قدامت پسند مذہبی فکر کے نمایاں نمائندہ ہیں جنہوں نے ماضی میں کم عمری کی شادی سمیت متعدد حساس مذہبی موضوعات پر اپنے دوٹوک اظہار کیا۔ وہ مرحوم مفتیِ اعظم عبدالعزیز آل الشیخ کے جانشین بنے ہیں، جو بیس برس سے زائد عرصے تک اس منصب پر فائز رہے اور حال ہی میں انتقال کر گئے تھے۔

اس تاریخی تقرری کے پس منظر میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سفارش شامل ہے, وہی شہزادہ جنہوں نے 2017 سے اب تک مملکت کو غیر معمولی سطح پر آزادانہ اصلاحات، جدیدیت اور معاشی تنوع کی جانب گامزن کیا۔ انہی اصلاحات کے نتیجے میں سعودی معاشرے کی ساخت میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں , خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملی، غیر مسلم سیاحوں کے لیے دروازے کھلے، اور شہری علاقوں میں حجاب جیسی مذہبی رسومات کی سختی کم ہوئی۔ اس سب کے باوجود، مفتیِ اعظم کے منصب پر ایک عمررسیدہ اور روایت پر سختی سے قائم عالم کی واپسی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ سعودی ریاست جدیدیت کی دوڑ میں بھی اپنی مذہبی اساس اور ادارہ جاتی روایت کو مکمل طور پر ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔ بین الاقوامی ماہرین کے مطابق یہ تقرری سعودی مذہبی پالیسی کی تسلسل ہے جس میں علما کونسل کے سب سے سینئر اور باوقار رکن کو ہی جانشین منتخب کیا جاتا ہے، تاکہ ریاستی مذہبی اتھارٹی کی روایت اور وقار برقرار رہے







Discussion about this post