بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب واقع علاقے ڈیگاری میں غیرت کے نام پر ہونے والے سفاکانہ قتل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس دردناک واقعے میں ایک مرد اور خاتون کو نہایت بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور عوامی غم و غصے کا طوفان برپا ہو گیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ بی بی بانو اور ایک مرد کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا، اور اس لرزہ خیز لمحے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد معاملے کی سنگینی میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ ہنہ اوڑک میں ایس ایچ او نوید اختر کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ اس بہیمانہ جرم میں ملوث افراد کی گرفتاری کا عمل جاری ہے۔ پولیس نے قبائلی شخصیت سردار شیر باز ساتکزئی اور بشیر احمد کو حراست میں لے کر 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر لیا ہوا ہے، جن سے تفتیش جاری ہے۔ مزید برآں، مقتولہ کے والد گل جان کو بھی گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ مقتولہ کی والدہ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جنہوں نے سوشل میڈیا پر قتل کے عمل کو درست قرار دیتے ہوئے قبائلی سردار کی حمایت میں بیان دیا۔ پولیس مقدمے میں نامزد دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس المیے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ قتل ہونے والے دونوں افراد آپس میں شادی شدہ نہیں تھے بلکہ دونوں کے اپنے شریک حیات اور بچے موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کسی بھی طور پر قابلِ قبول نہیں۔ادھر بلوچستان ہائیکورٹ نے بھی اس دل دہلا دینے والے واقعے کا از خود نوٹس لے لیا ہے، جس سے امید کی جا رہی ہے کہ عدالتی کارروائی انصاف کی راہ ہموار کرے گی۔







Discussion about this post