گلوکارہ قرۃ العین بلوچ، جو ڈرامہ سیریل ہمسفر کے مشہور ٹائٹل گانے ’’وہ ہمسفر تھا‘‘ سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچیں، گلگت بلتستان کے دیوسائی نیشنل پارک میں ایک نایاب بھورے ریچھ کے حملے میں زخمی ہوگئیں۔ پولیس کے مطابق گلوکارہ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ دیوسائی کے کیمپنگ ایریا میں موجود تھیں جب ریچھ نے اچانک حملہ کر کے ان کے دونوں بازو زخمی کر دیے۔ ان کی چیخ و پکار پر قریبی افراد نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریچھ کو بھگا دیا اور یوں ان کی جان بچ گئی۔ زخمی ہونے کے بعد قرۃ العین بلوچ کو فوری طور پر آر ایچ کیو اسپتال اسکردو منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو خطرے سے باہر قرار دیا ہے۔

بلتستان پولیس کے ترجمان غلام محمد نے بتایا کہ بھورے ریچھ اکثر بڑا پانی کے علاقے میں نقل و حرکت کرتے ہیں اور اس سے پہلے بھی متعدد افراد ان کے حملوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ دیوسائی نیشنل پارک ان نایاب ریچھوں کا مسکن ہے، جہاں ان کی تعداد تقریباً 77 بتائی جاتی ہے۔ یہ ریچھ بڑی ندیوں سے مچھلی شکار کر کے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ دیوسائی نیشنل پارک اپنی وسیع چراگاہوں، بلند پہاڑوں، دلکش قدرتی مناظر اور متنوع جنگلی حیات کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ یہاں ہمالیائی مارموٹ، بھورا ریچھ اور کئی دیگر نایاب جانور پائے جاتے ہیں، جبکہ گرمیوں میں یہ علاقہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں سے آباد رہتا ہے۔ گلوکارہ اپنی ٹیم کے ہمراہ پارک کی خوبصورتی کی عکس بندی کے لیے پہنچی تھیں لیکن یہ سفر حادثے کا شکار ہوگیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور سیاحوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ رات کے وقت کھلے میدانوں میں کیمپنگ کے بجائے ہوٹلوں یا محفوظ مقامات پر قیام کریں۔ صوبائی حکومت نے بھی فوری طور پر دیوسائی میں رات کی کیمپنگ پر پابندی عائد کردی ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے خطرناک واقعات سے بچا جا سکے۔








Discussion about this post