پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں فوتیدگی کے موقع پر کھانا پکانے، تقسیم کرنے اور دعوتی نوعیت کی تقریبات کے انعقاد پر پابندی عائد کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد غم کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں پر پڑنے والے غیر ضروری مالی دباؤ کو کم کرنا اور سادگی، ہمدردی اور وقار کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق فوتیدگی جیسے نازک اور حساس مواقع پر دکھاوے، رسم و رواج اور فضول اخراجات کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ اس حوالے سے جلد ضلعی انتظامیہ کو باقاعدہ ہدایات جاری کی جائیں گی تاکہ فیصلے پر مؤثر اور یکساں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
*بڑی خبر*
*پنجاب حکومت کا فوتیدگی پر کھانا پکانے کی رسم پر پابندی کا فیصلہ.
*لاہور : پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں فوتیدگی کے موقع پر کھانا پکانے، تقسیم کرنے اور دعوتی تقریبات کے انعقاد پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے*
*حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غمزدہ خاندانوں پر غیر…
— DTE PUNJAB DSD (@DsdDte) December 14, 2025
ذرائع کا کہنا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس کی نگرانی براہِ راست ضلعی انتظامیہ کرے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سوگ کے لمحات میں معاشرتی دباؤ کے تحت بڑے پیمانے پر کھانے پکانا اور تقسیم کرنا نہ صرف مالی بوجھ بنتا ہے بلکہ غم کی اصل روح کے بھی منافی ہے۔

علما کرام، سماجی رہنماؤں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے پنجاب حکومت کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوتیدگی کے موقع پر سادگی، صبر، دعا اور مرحوم کے لیے ایصالِ ثواب کو ترجیح دی جانی چاہیے، نہ کہ غیر ضروری رسومات اور نمود و نمائش کو، جو اکثر غمزدہ خاندانوں کے لیے مزید مشکلات کا سبب بنتی ہیں۔ یہ فیصلہ معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف مالی بوجھ میں کمی آئے گی بلکہ سوگ کے مواقع پر حقیقی ہمدردی اور انسانی اقدار کو بھی فروغ ملے گا۔







Discussion about this post