بھارت کی جانب سے سلال ڈیم کے گیٹ کھولنے اور دریائے چناب میں بغیر اطلاع پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب کے دریاؤں میں شدید طغیانی نے تباہی مچادی۔ جھنگ میں ہیڈ تریموں پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 79 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، نتیجتاً 200 سے زائد گاؤں پانی میں ڈوب گئے۔ پنجاب کے تینوں بڑے دریاؤں میں بدترین سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ اب تک 35 افراد جاں بحق اور 23 لاکھ 83 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں، جب کہ 9 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
بڑے اعداد و شمار:
-
متاثرہ افراد: 23 لاکھ 83 ہزار
-
محفوظ مقامات پر منتقل: 9 لاکھ 18 ہزار
-
جاں بحق: 35 افراد
-
متاثرہ موضع جات: 2200 سے زائد
-
ریلیف کیمپس: 392 قائم
-
میڈیکل کیمپس: 386 فعال
-
ویٹرنری کیمپس: 333 قائم
-
محفوظ کیے گئے جانور: 6 لاکھ 9 ہزار
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے بتایا کہ دریائے چناب میں جھنگ، مرالہ، خانکی، قادرآباد اور تریموں کے مقامات پر پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ دریائے راوی اور ستلج میں بھی اونچے درجے کے سیلاب کی کیفیت ہے۔
ڈیمز کی صورتحال:
-
منگلا ڈیم: 82 فیصد بھرا
-
تربیلا ڈیم: 100 فیصد بھرا
-
بھاکڑا (بھارت): 84 فیصد بھرا
-
پونگ ڈیم: 98 فیصد بھرا
-
تھین ڈیم: 92 فیصد بھرا
محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے کئی اضلاع میں آج بھی موسلا دھار بارش کی پیشگوئی ہے، جب کہ مون سون کا نواں اسپیل 2 ستمبر تک جاری رہے گا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں لاہور میں 42 ملی میٹر، گجرانوالہ میں 19 ملی میٹر اور مری میں 11 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
حکومت کے اقدامات:
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر متاثرین کے نقصانات کے ازالے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کسانوں کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے تاکہ ان کی مدد یقینی بنائی جا سکے۔







Discussion about this post