قومی ادارہ صحت کے ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے خیبر پختونخوا کے ضلع تورغر سے وائلڈ پولیو وائرس (WPV1) کا ایک اور کیس کنفرم کر دیا ہے۔ متاثرہ بچہ تحصیل کندار کی یونین کونسل گھڑی کا رہائشی بتایا گیا ہے۔ یہ رواں برس تورغر سے سامنے آنے والا دوسرا کیس ہے۔اس نئے کیس کے بعد سال 2025 کے دوران پاکستان میں پولیو مریضوں کی مجموعی تعداد 30 ہو گئی ہے جن میں 19 کیس خیبر پختونخوا، 9 سندھ، جب کہ پنجاب اور گلگت بلتستان سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا۔

ماحولیاتی نگرانی کی تازہ صورتحال
ستمبر 2025 میں پاکستان پولیو پروگرام نے ملک کے 87 اضلاع سے سیوریج کے 127 نمونے حاصل کیے:
-
81 نمونے منفی
-
44 مثبت
-
2 نمونے زیرِ تجزیہ
- اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مجموعی مثبت شرح میں کمی آئی ہے، جو حالیہ انسدادِ پولیو مہمات کے مثبت اثرات کی نشان دہی کرتی ہے، تاہم وائرس کا گھومتا رہنا اب بھی مخصوص علاقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔
-
ویکسینیشن، واحد مؤثر دفاع
پولیو ایک شدید متعدی اور لاعلاج مرض ہے جو عمر بھر کے فالج کا سبب بن سکتا ہے۔اس سے حفاظت کا واحد مؤثر طریقہ ، پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو ہر مہم کے دوران بار بار پولیو کے قطرے پلانا اور روٹین امیونائزیشن مکمل کرنا ہے۔اسی سلسلے میں:
-
چوتھی قومی انسدادِ پولیو مہم کے دوران 4 کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی
-
جنوبی خیبر پختونخوا میں مہم 20 تا 23 اکتوبر جاری ہے
-
قومی ٹاسک فورس نے 2025-26 کا روڈ میپ منظُور کر کے اضافی حکمتِ عملی اور روٹین ویکسینیشن کی مضبوطی پر زور دیا ہے

اجتماعی فرض اور اجتماعی کردار
پولیو مکمّل خاتمے کی جدوجہد میں 4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ورکرز ملک بھر میں گھر گھر پہنچ کر ذمہ داری نبھا رہے ہیں، مگر والدین، اساتذہ، کمیونٹیز، مساجد کے خطبا اور میڈیا اس مہم کی کامیابی میں فیصلہ کن کردار رکھتے ہیں۔ غلط فہمیوں کے ازالے، اعتماد کی بحالی اور ویکسین کی ترغیب دے کر ہی پاکستان کو پولیو کے اندھیروں سے نکال کر صاف اور محفوظ مستقبل دیا جا سکتا ہے۔
-







Discussion about this post