وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اب اقتصادی بحران سے نکلنے کی جانب گامزن ہے اور معیشت مستحکم ہونے کی جانب قدم بڑھا رہی ہے۔ نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اصلاحات کا مطالبہ عوام اور کاروباری طبقے کی گزشتہ دہائیوں سے خواہش تھی۔ سرمایہ کار، صنعتکار اور تاجر پیچیدہ قوانین، غیر ضروری ضوابط اور طویل کارروائیوں سے پریشان تھے، اور یہی مسائل ملک کی ترقی میں رکاوٹ بنتے رہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب حکومت سنبھالی تو پاکستان کی معیشت نازک صورتحال میں تھی، ملک عملی طور پر مالی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا تھا، مہنگائی بے قابو تھی اور پالیسی ریٹ نے کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں، لیکن حکومت نے اُمید کا دامن کبھی نہیں چھوڑا اور بہترین حکمت عملی کے تحت چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ شہباز شریف نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دی ہے، اور معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں، اور حکومت انہیں جدید فنی اور پیشہ وارانہ تربیت فراہم کر کے نہ صرف ہنر مند بنا رہی ہے بلکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی میں ان کا کردار بھی مضبوط کر رہی ہے۔







Discussion about this post