وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کے 17ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خطے کے امن کو لاحق خطرات، بھارت کی اشتعال انگیزی، اسرائیلی بربریت اور ماحولیاتی چیلنجز پر پاکستان کا واضح مؤقف دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ وزیرِاعظم نے اپنے خطاب کے آغاز میں ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلاجواز، غیر قانونی اور غیر انسانی جارحیت پر عالمی برادری کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے ایرانی شہداء کے لیے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا بھی کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے حالیہ دنوں میں پاکستان پر حملہ کر کے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "بھارتی اشتعال انگیزی کے جواب میں پاک فوج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھرپور اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔” انہوں نے بھارت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک، اور اب پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ اور دیگر دریا پاکستان کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتے ہیں، بھارت کا سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ انخلا ناقابل قبول ہے اور عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ غزہ کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینی عوام کو بدترین مظالم کا سامنا ہے، جہاں قحط، بمباری اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں پر حملے روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت انسانیت کی شدید بے حسی کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ وزیرِاعظم نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بہتر ہمسائیگی کا خواہاں ہے، تاہم بنیادی مسئلہ دہشتگردی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان سرزمین پر دہشتگردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں اور ان حملوں میں بھارت کا کردار بھی شامل ہے، جس کے شواہد افغان حکومت سے شیئر کیے جا چکے ہیں۔ وزیرِاعظم نے ای سی او اجلاس کی کامیاب میزبانی پر آذربائیجان کے صدر کو مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کیا، اور پاکستان عالمی شراکت داری کے ذریعے اس بحران سے نمٹنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔







Discussion about this post