وزیراعظم شہباز شریف نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نہ صرف خطے کے استحکام بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے، جسے روکنے کے لیے عالمی برادری کو فوری اور مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ:
"ایران پر اسرائیل کی کھلی جارحیت ناقابلِ قبول ہے، پاکستان اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور درجنوں افراد زخمی ہیں، جب کہ جنگ بدستور جاری ہے، جس پر پاکستان کو شدید تشویش ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ جنگ کے ابتدائی دن ہی انہوں نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔
"میں نے ایرانی صدر سے گفتگو کے دوران پاکستان کی طرف سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور خطے میں امن کی خواہش کو دہرایا۔”
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا:
"غزہ میں اب تک 50 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں، اور انسانی المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر فورم پر مظلوم فلسطینی عوام کی آواز بنے گا اور دنیا کو مسلسل یاد دلاتا رہے گا کہ انسانی حقوق کی پامالی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی طاقتوں اور اقوامِ متحدہ سے اپیل کی کہ:
"وہ ایران-اسرائیل جنگ کے فوری خاتمے اور غزہ میں انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے متحرک کردار ادا کریں، کیونکہ یہ جنگ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔”







Discussion about this post