سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے بدھ کی صبح پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جس میں خطے کی نازک صورتحال، بین الاقوامی سلامتی اور جاری فوجی کشیدگی کے سنگین اثرات پر گہری اور مفصل گفتگو ہوئی۔ گفتگو کا آغاز انتہائی گرمجوشی سے ہوا جب وزیراعظم شہباز شریف نے خادم حرمین شریفین، سعودی ولی عہد اور پورے سعودی عوام کو عید الفطر کی دلی مبارکباد پیش کی۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے اس مبارکباد کا جواب خوشی، مسرت اور باہمی نیک خواہشات کے ساتھ دیا۔ وزیراعظم نے سعودی سرزمین پر ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی مکمل یکجہتی اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی مملکت اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا، بالکل اسی طرح جیسے سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی ہر مشکل میں بھرپور مدد کی ہے۔ شہباز شریف نے فوری طور پر جنگ کے خاتمے، خطے میں امن کی بحالی اور معمول کی زندگی کے لوٹنے پر زور دیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور بھائی چارے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے سعودی قیادت کو پاکستان کی تعمیری سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا، جن کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور تمام اختلافات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا ہے۔
Spoke with my dear brother His Royal Highness Crown Prince Mohammed bin Salman to convey warm Eid-ul-Fitr greetings to The Custodian of the Two Holy Mosques, His Majesty King Salman bin Abdulaziz Al Saud, the Royal Family and the brotherly people of Saudi Arabia.
I reiterated…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) March 25, 2026
سعودی ولی عہد نے پاکستان کی ان امن کوششوں کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں ہر سطح پر قریبی رابطے اور تعاون کو جاری رکھنے پر مکمل اتفاق کیا۔ اسی دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر سے بھی ٹیلیفون پر بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری فوجی کشیدگی اور اس کے عالمی معیشت، تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی نیویگیشن پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ لیا۔ برطانوی وزیراعظم نے سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک اہم پیغام جاری کیا، جس میں کہا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کی رضامندی سے مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور یہ اعزاز پاکستان کے لیے باعث فخر ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے جاری تمام کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور بامعنی، نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کرنے کو تیار ہے۔ یہ پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ٹیگ کرتے ہوئے جاری کیا گیا۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی اس پوسٹ کو شیئر کر کے اسے مزید توجہ کا مرکز بنا دیا۔ یہ تمام رابطے اور پیش رفت اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ پاکستان خطے میں امن کا پرچم بلند رکھنے اور تنازعات کو سفارتی راستے سے حل کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔







Discussion about this post