رواں برس چلغوزے کی قیمت میں غیر معمولی کمی نے صارفین کو خوش اور کاشتکاروں کو پریشان کر دیا ہے۔ گزشتہ سال ایک کلو چلغوزے کی قیمت 15 سے 18 ہزار روپے تک پہنچ چکی تھی، مگر اس سال قیمتیں کم ہو کر 6 سے 9 ہزار روپے فی کلو تک آگئی ہیں۔ بلوچستان کے ضلع ژوب اور شیرانی میں تو چلغوزہ 3 سے 5 ہزار روپے فی کلو میں بھی فروخت ہوا، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک بڑی کمی ہے۔کاشتکاروں اور تاجروں کے مطابق اس اچانک کمی کی دو بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ پہلی وجہ پاک افغان سرحد کی بار بار بندش ہے، جس سے بین الاقوامی تجارت متاثر ہوئی اور چلغوزے کی برآمدات کم ہوئیں۔ دوسری اہم وجہ بارشوں کی کمی ہے، جس نے فصل کی مجموعی پیداوار اور معیار پر اثر ڈالا۔ ان عوامل کے باعث مارکیٹ میں طلب اور رسد کا توازن بگڑ گیا، اور قیمتیں نیچے آگئیں۔دوسری جانب شہری اس کمی کو خوشگوار موقع قرار دے رہے ہیں اور نسبتاً کم قیمت پر اعلیٰ ذائقے والے چلغوزے خریدنے کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

چلغوزے کی قیمتوں میں کمی کے پیچھے ایک اور اہم تکنیکی وجہ بھی سامنے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر چلغوزے کو کولڈ اسٹوریج میں نہ رکھا جائے تو وقت کے ساتھ اس کا وزن کم ہونے لگتا ہے، اور چونکہ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں کولڈ اسٹوریج کی مناسب سہولت دستیاب نہیں، اسی لیے تاجروں کو مجبوری کے تحت چلغوزہ جلدی اور کم قیمت پر فروخت کرنا پڑتا ہے۔ وزن میں کمی اور خرابی کے خوف سے وہ اسے زیادہ دیر تک ذخیرہ نہیں کرسکتے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں سپلائی بڑھ جاتی ہے اور قیمتیں مزید نیچے آتی جاتی ہیں۔ یوں، سرحدی صورتحال، موسمی کمی اور کولڈ اسٹوریج کی کمی, یہ تمام عوامل مل کر اس سال چلغوزے کی مارکیٹ میں نمایاں تبدیلی کی وجہ بنے ہیں، جس کے اثرات صارفین اور کاشتکار دونوں بھرپور طریقے سے محسوس کر رہے ہیں۔







Discussion about this post