وفاقی وزیر برائے ہوابازی خواجہ آصف نے اعلان کیا ہے کہ پانچ سالہ تعطل کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی برطانیہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں اور اسلام آباد سے پہلی پرواز 350 مسافروں کو لے کر مانچسٹر روانہ ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف آغاز ہے، جلد لندن اور برمنگھم کے لیے بھی پروازیں شروع کی جائیں گی جبکہ حکومت پی آئی اے کو ایک بار پھر منافع بخش ادارے کے طور پر کھڑا کرنے کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر اس موقع پر خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیرِ ہوابازی کے ساتھ برطانوی ہائی کمشنر، سیکریٹری دفاع اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ افتتاح کے بعد خطاب میں خواجہ آصف نے کہا کہ
’’پانچ سال کے سخت ترین انتظار اور مسلسل کوششوں کے بعد آج قومی پرواز کا مانچسٹر تک دوبارہ پہنچنا محض اتفاق نہیں بلکہ ریاستی عزم، ادارہ جاتی اصلاحات اور ٹھوس سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے‘‘۔
The wait is finally over! Pakistan International Airlines proudly reconnects Manchester & Islamabad, bringing loved ones closer once again.
Book now and be a part of this historic return.#PIA #MachestertoIslamanad #FlywithUs #Manchester #Islamabad #FlywithPIA… pic.twitter.com/Eldp82GSZx
— PIA (@Official_PIA) October 4, 2025
انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی پابندیوں نے نہ صرف پی آئی اے بلکہ پاکستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا تھا، تاہم حکومت نے اسے قومی چیلنج سمجھ کر ایک لمحہ ضائع کیے بغیر نظام کو از سرِنو تشکیل دیا۔پائلٹ ٹریننگ، لائسنسنگ، انسپیکشن، طیاروں کی دیکھ بھال اور حفاظتی نظام مکمل طور پر عالمی معیار کے مطابق ری انجینئر کیے گئے، جس کے بعد یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے پر اپنا اعتماد بحال کیا۔ خواجہ آصف نے برطانیہ اور یورپ میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں اور متعلقہ عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سفارتی سطح پر مقدمہ مضبوط انداز میں لڑا، شواہد فراہم کیے اور رابطے بحال رکھے۔ انہوں نے خاص طور پر برطانوی ہائی کمیشن اور ہائی کمشنر جین میریٹ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’یہ تعاون دونوں ملکوں کی دوستی اور اعتماد کی علامت ہے‘‘۔وزیرِ ہوابازی نے واضح کیا کہ مانچسٹر کے لیے پروازیں آغاز ہیں، اب اگلا مرحلہ لندن اور برمنگھم کی فلائٹس کی بحالی ہے، جس پر کام تیزی سے جاری ہے۔ یاد رہے کہ
2020 میں پی آئی اے کے طیارہ حادثے اور پائلٹس کے لائسنس اسکینڈل کے بعد یورپ، برطانیہ اور امریکا کے لیے پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
نومبر 2024 میں یورپی پابندی اٹھائی گئی اور جولائی 2025 میں برطانیہ نے پاکستان کو اپنی ایئر سیفٹی لسٹ سے خارج کر کے فلائٹس کی بحالی کا راستہ کھول دیا۔
برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ کے سیکیورٹی آڈٹ کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کے حفاظتی انتظامات کو عالمی معیار کے مطابق قرار دیا گیا، جس کے بعد اب پی آئی اے کی “تاریخی واپسی” حقیقت بن گئی ہے۔







Discussion about this post