پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو کے خلاف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو بھیجا گیا خط منظرِ عام پر آگیا ہے، جس کے انکشاف نے کرکٹ کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی نے سوریا کمار کے خلاف نہایت تفصیلی اور مدلل خط لکھا تھا، جس میں بھارتی کپتان کے رویے کو کھیل کی روح کے منافی قرار دیا گیا۔ آئی سی سی نے بھی پی سی بی کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے انضباطی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ یہ خط 14 ستمبر کے میچ کے اختتام پر سوریا کمار کی جانب سے کیے گئے ایسے اقدامات کے خلاف تھا، جو واضح طور پر آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ پی سی بی نے اپنے مؤقف میں زور دیا کہ بھارتی کپتان نے کھیل کو سیاست میں الجھانے کی کوشش کی اور اپنی حرکات سے کرکٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

پی سی بی کے خط میں کہا گیا کہ سوریا کمار یادیو نے جان بوجھ کر "پہلگام واقعہ” اور "آپریشن سندور” کے حوالے دیے، جو سراسر سیاسی نوعیت رکھتے ہیں۔ بورڈ نے مؤقف اپنایا کہ اس قسم کے رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ کرکٹ کے تقدس کے خلاف ہے۔ خط میں مزید کہا گیا کہ آئی سی سی پہلے ہی "فری غزہ” اور "فریڈم از ہیومن رائٹ” جیسے نعروں کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہے، لہٰذا بھارتی کپتان کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو کھیل کا میدان سیاسی اکھاڑہ بن جائے گا۔ پی سی بی نے اپنے خط کے آخر میں واضح کیا کہ سوریا کمار یادیو کے بیانات براہ راست پاکستان کے خلاف تھے، اس لیے ان پر سخت ترین کارروائی وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔







Discussion about this post