تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

جین زی کا مقبول پاس ورڈ 1234

by ویب ڈیسک
نومبر 20, 2025
password
Share on FacebookShare on Twitter

سکیورٹی کے حوالے سے نوجوان نسل کے متعلق عام تاثر یہ ہے کہ وہ چونکہ مکمل طور پر ڈیجیٹل دور میں پلی بڑھی ہے، اسی لیے انہیں سائبر سکیورٹی کی بہتر سمجھ ہونی چاہیے۔ تاہم پاس ورڈ مینیجر ’’نورڈ پاس‘‘ کی تازہ تحقیق اس تصور کے بالکل برعکس تصویر پیش کرتی ہے۔ تحقیق کے مطابق جین زی (یعنی 1997 کے بعد پیدا ہونے والے نوجوان) کی پاس ورڈ عادات نہ صرف غیر محفوظ ہیں، بلکہ پرانی نسلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور ثابت ہو رہی ہیں۔ سب سے حیران کن انکشاف یہ ہے کہ جین زی میں سب سے مقبول پاس ورڈ صرف "12345” ہے، جب کہ دیگر نمبروں کی سیدھی ترتیب بھی ٹاپ لسٹ میں شامل ہے۔ لفظ ’’پاس ورڈ‘‘ پانچویں نمبر پر اور سوشل میڈیا کلچر سے لیا گیا لفظ ’’سکیبیڈی‘‘ ساتویں نمبر پر پایا گیا۔ اس کے مقابلے میں بے بی بومرز، یعنی 1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل، نسبتاً بہتر پاس ورڈ استعمال کرتی ہے۔ تاہم ان میں بھی "123456” جیسا انتہائی آسان کوڈ سب سے زیادہ مقبول ہے۔ یہی رجحان میلینیئلز اور جنریشن ایکس میں بھی نظر آتا ہے۔

password 1

اسی طرح کا نتیجہ رواں سال کے آغاز میں ’’بٹ وارڈن‘‘ کی ایک عالمی تحقیق میں بھی سامنے آیا، جس میں ہزاروں ملازمین سے سروے کیا گیا۔ اس میں بتایا گیا کہ جنریشن زی میں ’’پاس ورڈ تھکاوٹ‘‘ بہت زیادہ ہے، اور 72 فیصد نوجوان ایک ہی پاس ورڈ کو مختلف پلیٹ فارمز پر دوبارہ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بے بی بومرز میں یہ شرح صرف 42 فیصد ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمزور پاس ورڈ رکھنے کے باوجود جنریشن زی جدید سکیورٹی اقدامات جیسے پاس کیز، بائیو میٹرکس اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال کرنے میں دیگر نسلوں سے آگے ہے۔ گوگل کی ایک حالیہ رپورٹ بھی یہی ظاہر کرتی ہے کہ نوجوان صارفین روایتی پاس ورڈ پر کم اور جدید سائن ان طریقوں پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔

password 3

گوگل کے نائب صدر برائے سیفٹی و پرائیویسی ایون کوسٹوینوس کے مطابق نوجوان نسل پرانے سکیورٹی اصولوں کو چھوڑ کر جدید ٹولز کو اپنا رہی ہے، جو کہ ایک مثبت رجحان ہے۔ ان کے مطابق پاس ورڈز نہ صرف یاد رکھنا مشکل ہیں بلکہ ہیک اور لیک ہونے کا بھی زیادہ خطرہ رکھتے ہیں، اسی لیے ٹیک کمپنیاں انہیں بتدریج ختم کرنے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔مجموعی طور پر تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ نوجوان نسل پاس ورڈز کے استعمال میں لاپرواہی برتتی ہے، تاہم وہ ٹیکنالوجی کا سہارا لے کر مستقبل کے زیادہ محفوظ اور آسان سائن ان طریقوں کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔

Previous Post

ایشیز سیریز: آسٹریلیاکی پلیئنگ الیون کا اعلان

Next Post

’کیس نمبر 9‘ میں عدلیہ سے متعلق ڈائیلاگ نے ہلچل مچا دی

Next Post
case no

’کیس نمبر 9‘ میں عدلیہ سے متعلق ڈائیلاگ نے ہلچل مچا دی

Discussion about this post

تار نامہ

mir raza murder

میر رضا کی موت خودکشی نہیں، قتل تھی؛ جوڈیشل کمیشن نے پولیس تفتیش پر سوال اٹھا دیے

tiger shroff

ٹائیگر شروف پر فائرنگ: کوٹا سے تین ملزمان گرفتار، بشنوئی گینگ کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری

parliment

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

iqrar

اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست، عدالت کا این سی سی آئی اے کو نوٹس جاری

pm cabinate

خیبرپختونخوا کے امور کی نگرانی کے لیے وزیراعظم کی 11 رکنی کمیٹی قائم، امن و امان اور گورننس پر خصوصی توجہ

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist