دنیا بھر کے مسافروں کے لیے سفری آزادی کا مظہر سمجھے جانے والے پاسپورٹس کی نئی عالمی درجہ بندی جاری کر دی گئی ہے۔ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2025 کے مطابق، اگرچہ پاکستانی پاسپورٹ نے معمولی بہتری ضرور دکھائی ہے، تاہم یہ اب بھی دنیا کے کمزور ترین سفری دستاویزات میں شامل ہے۔ پاکستانی شہری اس وقت صرف 32 ممالک میں بغیر پیشگی ویزا کے سفر کر سکتے ہیں، جب کہ درجہ بندی کے اعتبار سے پاکستان 96ویں نمبر پر موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ صرف یمن، صومالیہ، عراق، شام اور افغانستان سے بہتر ہے یعنی ان ممالک سے جنہیں خانہ جنگی، دہشتگردی اور سیاسی عدم استحکام نے جکڑا ہوا ہے۔
کیا ہے ہینلے پاسپورٹ انڈیکس؟
ہینلے انڈیکس دنیا کے 199 ممالک کے پاسپورٹس کا 227 سفری مقامات پر ویزا فری، ویزا آن ارائیول یا ای ٹی اے کی بنیاد پر تجزیہ کرتا ہے۔ جس ملک کے شہری جتنے زیادہ ممالک میں بغیر پیشگی ویزا داخل ہو سکتے ہیں، اس کا پاسپورٹ اتنا ہی طاقتور تصور کیا جاتا ہے۔ ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت ملنے پر پاسپورٹ کو 1 پوائنٹ دیا جاتا ہے، جب کہ اگر کسی ملک میں داخلے کے لیے پیشگی ویزا یا حکومتی منظوری لازم ہو، تو اسے 0 اسکور ملتا ہے۔
طاقتور ترین پاسپورٹس کون سے ہیں؟
2025 کی فہرست میں سنگاپور ایک بار پھر سب سے آگے ہے، جس کے شہری 194 ممالک میں بغیر ویزا یا ویزا آن ارائیول کے داخل ہو سکتے ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا دوسرے نمبر پر جبکہ یورپی یونین کے کئی ممالک تیسرے اور چوتھے نمبروں پر ہیں، جن میں جرمنی، فرانس، اٹلی، اسپین، فن لینڈ، ڈنمارک اور آئرلینڈ شامل ہیں۔
برطانیہ اور امریکا کی تنزلی
ایک وقت میں دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس سمجھے جانے والے امریکا (2014) اور برطانیہ (2015) اب بالترتیب 10ویں اور 6ویں پوزیشن پر آچکے ہیں۔ یہ کمی ان ممالک کی عالمی ویزا پالیسیوں اور سفارتی چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔
ایشیا میں کس نے بازی مار لی؟
ایشیا میں سب سے نمایاں بہتری متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے حاصل کی، جو 10 برسوں میں 42ویں پوزیشن سے 8ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ یہ واحد ملک ہے جو ترقی کرتے ہوئے ٹاپ 10 میں شامل ہوا ہے۔اسی طرح بھارت نے بھی پچھلے 6 ماہ میں 8 درجے بہتری حاصل کی ہے اور اب 77ویں نمبر پر ہے۔ چین کی پیش رفت بھی قابلِ ذکر ہے، جو 2015 میں 94ویں نمبر پر تھا اور اب 60ویں پوزیشن پر آچکا ہے، حالانکہ ابھی بھی اسے یورپی شینگن زون میں ویزا فری رسائی حاصل نہیں۔
کیا پاکستانی پاسپورٹ میں بہتری ممکن ہے؟
ماہرین کے مطابق پاسپورٹ کی درجہ بندی صرف سفری آزادی کی عکاسی نہیں بلکہ کسی ملک کی سفارتی پالیسی، سیاسی استحکام، معیشت اور عالمی تعلقات کا بھی مظہر ہوتی ہے۔ اگر پاکستان مستقل مزاجی سے سفارتی تعلقات، داخلی سلامتی اور معاشی اعتماد کو بہتر بنائے، تو آنے والے برسوں میں پاسپورٹ کی طاقت میں نمایاں بہتری ممکن ہے۔







Discussion about this post