ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان 45 منٹ تک گرمجوشی اور اعتماد سے بھری ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔ ایرانی صدر نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ وہ جلد از جلد ایران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان بھیج رہے ہیں۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ شہباز شریف نے جنگ بندی پر آمادگی کے لیے ایرانی قیادت کی دانشمندی، دوراندیشی اور ذمہ داری کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ ایرانی صدر نے وزیراعظم کی اس ہفتے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کو قبول کر لیا۔ وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے بھی گہری تعظیم و احترام کا اظہار کیا۔ صدر پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی قیادت کی انتھک سفارتی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور تصدیق کی کہ ایران اسلام آباد مذاکرات میں بھرپور شرکت کرے گا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے کو جاری رکھنے اور امن کی راہ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔
I had a warm and substantive conversation with President Masoud Pezeshkian of Iran, this afternoon.
I conveyed my deep appreciation for the wisdom and sagacity of the Iranian leadership in accepting Pakistan’s offer to host peace talks in Islamabad later this week to work…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 8, 2026
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے الگ بیان میں کہا کہ یہ جنگ بندی ایران کے مطلوبہ اصولوں کے عین مطابق ہے اور یہ ہمارے عظیم رہنما خامنہ ای کے خون کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کی بھرپور قربانیوں اور استقامت کا نتیجہ ہے کہ آج ہم سفارتکاری اور دفاعی دونوں محاذوں پر مزید متحد اور مضبوط ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات جمعہ 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں۔پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جہاں دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے تھیں، وہاں پاکستانی قیادت نے امن کا پل بن کر تاریخ رقم کر دی ہے۔







Discussion about this post