ایک بار پھر خطے کا آسمان خوف اور احتیاط کی چادر اوڑھے ہوئے ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ طوفانی حملے کے بعد پاکستان نے فوری طور پر احتیاطی اقدامات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ پاکستانی ایئرلائنز کو ایرانی فضائی حدود کا استعمال کرنے سے مکمل طور پر اجتناب کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے. یہ حکم پاکستان ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) کو بھی دیا گیا ہے کہ وہ ملکی فضائی حدود کی کڑی نگرانی کرے، خاص طور پر ایران اور افغانستان کی سرحدی فضائی حدود پر سخت نگرانی رکھی جائے۔ایوی ایشن حکام کے مطابق یہ تدابیر خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر حفاظت اور مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ ایران پر حملے کے فوراً بعد پاکستان نے اپنی فضائی حدود کی نگرانی کو انتہائی سطح پر پہنچا دیا ہے، تاکہ کوئی بھی غیر متوقع خطرہ یا خلل پیدا نہ ہو۔ دوسری جانب، حملے کی شدت نے تہران کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں متعدد میزائل تہران کے حساس مقامات پر گرے—یونیورسٹی اسٹریٹ، جمہوریہ ایریا، صدارتی محل اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب کم از کم سات طاقتور میزائل داغے گئے۔ شہر بھر میں شدید دھماکوں کی آوازیں گونج رہی ہیں، مضافات سے سیاہ دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں، اور افراتفری کی لہریں ہر طرف پھیل گئی ہیں۔ یہ حملہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک بڑے طوفان کا آغاز ہے جو پورے مشرق وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دے گا۔ پاکستان سمیت خطے کے ممالک اب اعلیٰ الرٹ پر ہیں—فضائی حدود بند، فلائٹس معطل، اور نگرانی کا جال بچھایا جا رہا ہے۔







Discussion about this post