امریکا کے ممتاز جریدے فارن پالیسی نے پاک۔امریکا تعلقات پر نئی رپورٹ میں ایک نہایت اہم اور حیران کن تجزیہ پیش کیا ہے، جس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں پاکستان نے واشنگٹن کے ساتھ اپنی سفارت کاری کو نئی سمت اور غیر معمولی رفتار دی۔ رپورٹ کہتی ہے کہ اس عرصے میں صدر ٹرمپ، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ایک غیر معمولی ذاتی ہم آہنگی پیدا ہوئی، جس نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو ایک نئی سطح تک پہنچایا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ان دونوں شخصیات کو متعدد بار وائٹ ہاؤس مدعو کرکے اس گرمجوشی کو مزید مضبوط کیا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ کابل دھماکے کے مرکزی کردار کی گرفتاری میں پاکستان کے بروقت تعاون نے امریکی صدر کا اعتماد جیتنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی طرح پاکستان نے ٹرمپ کے قریبی حلقوں، لابیسٹ نیٹ ورکس اور کرپٹو سمیت نئی اقتصادی سمتوں میں شراکت داری بڑھا کر تعلقات کو عملی فائدہ پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے دوسرے دور میں پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنی سفارتی حکمت عملی میں سب سے زیادہ کامیاب دکھائی دیا۔

فارن پالیسی کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی پیش رفت کرٹیکل منرلز کے شعبے میں سامنے آئی، جہاں ایف ڈبلیو او اور ایک امریکی کمپنی کے درمیان 500 ملین ڈالر کا تاریخی معاہدہ طے پایا۔ کرپٹو سیکٹر میں تعاون بھی نمایاں طور پر بڑھا، پاکستان کرپٹو کونسل نے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ اپنی شراکت کو مزید مضبوط کیا۔ رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ ٹرمپ کا رویہ بھارت کے لیے خاصا سخت رہا، جس کی وجوہات میں تجارتی ٹیرف، روسی تیل کی خریداری اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی شامل ہیں۔ مئی کی جنگ بندی کے دوران پاکستان نے کھل کر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا، تاہم بھارت نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ گرمجوش تعلقات کے نتیجے میں امریکی بیانیہ پاکستان کے لیے کہیں زیادہ نرم ہوا ہے، جبکہ اسلام آباد کی خواہش ہے کہ واشنگٹن اس تعلق کو کسی تیسرے ملک کے تناظر کے بغیر ایک دوطرفہ اور خودمختار شراکت کے طور پر دیکھے۔ یہ رپورٹ نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کرتی ہے، بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ درست حکمت عملی اور بروقت اقدامات کسی بھی ملک کو عالمی سیاست میں ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد شراکت دار بنا سکتے ہیں۔







Discussion about this post