پاکستان امریکن ٹیک کونسل کا باقاعدہ اجلاس قونصلیٹ جنرل آف پاکستان، لاس اینجلس میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کی، جبکہ قونصل جنرل عاصم علی خان سمیت امریکہ بھر سے چالیس سے زائد ممتاز ٹیکنالوجی ماہرین، سرمایہ کاروں، اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ سفیر رضوان شیخ نے پاکستانی امریکن ٹیکنالوجی ڈائسپورا کے کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ یہ کمیونٹی پاکستان اور امریکہ کے جدید ٹیکنالوجی ماحولی نظام کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کونسل کی متحرک شمولیت کو سراہا اور حکومتِ پاکستان کی شفاف، مستقبل بین اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے عزم کا اعادہ کیا۔

قونصل جنرل عاصم علی خان نے ڈائسپورا کی خدمات کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ قونصلیٹ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
2025–2026 کے ایک سالہ روڈمیپ کی منظوری:
کونسل نے آئندہ سال کے لیے درج ذیل ایکشن پلان کی متفقہ منظوری دی:
- امریکہ کے بڑے ٹیک حبز میں پاکستان ٹیک انویسٹمنٹ کانفرنسز کا انعقاد
- امریکی ٹیک کمپنیوں کے اعلیٰ سطحی وفود کے پاکستان کے دورے کا اہتمام
- مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، اور ہیلتھ ٹیک جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ
- امریکی وینچر کیپیٹل اور اسٹارٹ اپ انکیوبیٹرز سے روابط کو مزید مضبوط بنانا
- سفیر شیخ نے کونسل کی بھرپور شمولیت کو سراہتے ہوئے PAKAMTECH کو پاکستان کی ڈیجیٹل سفارت کاری میں ایک اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے کونسل کے ارکان پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی ٹیکنالوجی صلاحیتوں کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے لیے متحرک کردار ادا کرتے رہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سفارتخانہ اس عمل میں مکمل تعاون فراہم کرتا رہے گا۔








Discussion about this post