دنیا کی کرکٹ میں ایک بار پھر سیاست اور کھیل کے درمیان کشمکش نے سر اٹھا لیا ہے، جہاں آٹھویں بڑی آبادی والا ملک بنگلہ دیش آئی سی سی کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر کر دیا گیا، صرف اس لیے کہ اس نے بھارت میں میچ کھیلنے سے انکار کر دیا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اس معاملے میں آئی سی سی کے دہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے، جو کرکٹ کی دنیا میں ایک بڑی بحث چھڑا رہا ہے۔ دی ایتھلیٹک کی رپورٹ کے مطابق، 2025 کے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت نے پاکستان جانے سے انکار کر دیا تھا، جس پر آئی سی سی نے ہائبرڈ ماڈل اپنایا اور بھارت کے تمام میچز دبئی میں کھیلوائے گئے۔ لیکن جب بنگلہ دیش نے اسی بنیاد پر سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے بھارت میں میچز نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا اور سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی، تو آئی سی سی نے اسے مسترد کر دیا اور بنگلہ دیش کو اسکاٹ لینڈ سے تبدیل کر کے ٹورنامنٹ سے آؤٹ کر دیا۔

نیویارک ٹائمز نے واضح کیا کہ آئی سی سی کی آمدنی کا تقریباً 40 فیصد حصہ بھارت سے آتا ہے، اس لیے بھارت کے فیصلوں میں کھیل کو سیاست سے بالاتر رکھنے کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ پاک بھارت میچ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا مقابلہ ہے، جس سے ایک میچ ہی 25 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہو سکتی ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان آئی سی سی کے لیے شدید مالی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، براڈکاسٹرز نے اس ممکنہ نقصان کے پیش نظر آئی سی سی کے ساتھ تین ارب ڈالر کے معاہدے پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

یہ صورتحال کرکٹ کو محض ایک کھیل نہیں، بلکہ طاقت، سیاست اور معاشی مفادات کا ایک پیچیدہ میدان بنا رہی ہے، جہاں چھوٹے ممالک کے حقوق اکثر بڑے کھلاڑیوں کی مرضی کے سامنے پسپا ہو جاتے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف بنگلہ دیش کے لیے ناانصافی ہے بلکہ کرکٹ کی روح پر بھی ایک گہرا سوال اٹھاتا ہے۔ کیا واقعی کھیل سیاست سے بالاتر ہے، یا یہ صرف طاقتوروں کا کھیل بن چکا ہے؟ دنیا بھر کے شائقین اب اس جواب کا منتظر ہیں، جبکہ کرکٹ کی تاریخ ایک نئی، تلخ کہانی رقم کر رہی ہے۔







Discussion about this post