بالی وڈ کے سینئر اور دبنگ اداکار نصیرالدین شاہ نے نئی پنجابی فلم "سردار جی تھری” کے گرد کھڑے ہونے والے تنازع پر دلجیت دوسانجھ کے حق میں آواز بلند کر دی۔ فیس بک پر جاری ایک دلیرانہ بیان میں نصیرالدین شاہ نے دلجیت کو نشانے پر لینے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا:
"میں دلجیت کے ساتھ کھڑا ہوں۔ یہ جملہ باز لوگ کب سے موقع کی تلاش میں تھے، اور اب آخر کار انہوں نے وار کر دیا ہے۔”
نصیرالدین شاہ نے تنقید کرنے والوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے واضح کیا کہ فلم کی کاسٹنگ کی ذمے داری دلجیت کی نہیں بلکہ ہدایت کار کی تھی، لیکن چونکہ عوام کو ڈائریکٹر کا نام بھی معلوم نہیں، اس لیے سارا غصہ دلجیت پر نکالا جا رہا ہے۔

"دلجیت نے صرف پیشہ ورانہ انداز میں کردار قبول کیا کیونکہ اُس کا ذہن زہریلا نہیں۔”
نصیرالدین شاہ نے دو ٹوک کہا:
یہ غنڈے چاہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہر ذاتی رابطہ ختم ہو جائے۔ میرے اپنے قریبی رشتہ دار پاکستان میں ہیں، اور کوئی مجھے محبت کے اظہار سے نہیں روک سکتا۔اور جنہیں اعتراض ہے؟ "تو وہ کیلاشا چلے جائیں!”

فلم "سردار جی تھری” میں دلجیت دوسانجھ کے ساتھ پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کو بھی کاسٹ کیا گیا تھا۔ فلم کی شوٹنگ فروری 2025 میں مکمل ہوئی، جب پاک-بھارت تعلقات نسبتاً بہتر تھے۔لیکن اپریل .میں پہلگام واقعے کے بعد حالات بدل گئے، اور جون میں ٹریلر ریلیز ہونے پر جیسے ہی ہانیہ کی موجودگی کا علم ہوا، انتہا پسند حلقوں میں طوفان آ گیا۔ تنقید کے باوجود، "سردار جی تھری” نے ریلیز کے صرف دو دن میں 11 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کر لیا۔ پاکستان میں فلم نے انڈین فلموں کی اوپننگ ڈے کمائی کے تمام ریکارڈز توڑ ڈالے۔







Discussion about this post