حکومتِ پاکستان نے قومی شناختی کارڈ (CNIC) کے نظام میں ایک تاریخی اور انقلابی تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے، جو ملک کو ایک متحد، ڈیجیٹل اور ناقابلِ تسخیر شناختی ڈھانچے کی طرف لے جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے "ون نیشن، ون آئیڈینٹیٹی” کے وژن کے تحت قومی شناختی کارڈ اور پاکستان اوریجن کارڈ کے قواعد میں باضابطہ ترامیم کر دی ہیں، جنہیں S.R.O. 330(I)/2026 اور S.R.O. 331(I)/2026 کے ذریعے 24 فروری 2026 کو گیزیٹ میں شائع کیا گیا ہے۔
"ایک قوم – ایک شناخت” کے تصور کو عملی شکل دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے قومی شناختی کارڈ اور پاکستان اوریجن کارڈ قواعد میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی۔ کیو آر پر مبنی تصدیق، انسدادِ دھوکہ دہی کا مضبوط نظام اور بزرگ شہریوں کیلئے نئی سہولتیں متعارف۔ pic.twitter.com/L5Ek1icX8x
— NADRA (@NadraPak) February 24, 2026
یہ اپ گریڈ پاکستان کی ڈیجیٹل شناخت کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کر رہا ہے۔ اب کیو آر کوڈ کو قانونی طور پر سیکیورٹی اور تصدیقی فیچر کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہ کوڈ سکین کر کے فوری تصدیق ممکن بنائے گا، اور موجودہ مائیکرو چِپ کی جگہ "کیو آر کوڈ یا کوئی بھی دیگر ٹیکنالوجیکل فیچر” استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس سے NADRA کو مستقبل کی جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانے میں آسانی ہو گی بغیر بار بار قوانین تبدیل کرنے کی ضرورت کے۔
بایومیٹرک نظام کو مزید پختہ بنایا گیا ہے. اب فنگر پرنٹس اور آئرس اسکین کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ یہ ملٹی موڈل بایومیٹرک تصدیق دھوکہ دہی اور جعلی شناخت کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ثابت ہو گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جعلی شناختی کارڈز اور فراڈ کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کر دیں گے۔ ایک اہم ترین تبدیلی یہ ہے کہ کارڈ کے معطل ہونے پر تمام منسلک تصدیقی اور توثیقی خدمات خودکار طور پر بند ہو جائیں گی۔ یعنی معطل شدہ CNIC کو کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم، بینک، سرکاری ادارے یا آن لائن سروس میں استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ یہ ایک فوری اور موثر اقدام ہے جو غلط استعمال کو روکے گا۔ اب تمام شہریوں کو ایک ہی یکساں شناختی کارڈ جاری کیا جائے گا، جس سے چِپ والے اور نان چِپ والے کارڈز کے دو متوازی نظام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہ تبدیلی شہریوں کے لیے سہولت اور سیکیورٹی دونوں میں اضافہ لائے گی، کیونکہ اب ہر کارڈ جدید سیکیورٹی لی آؤٹ اور QR کوڈ کے ساتھ ہو گا۔







Discussion about this post