دنیا کے امیر ترین شخص اور جدت کے علمبردار ایلون مسک نے جب ایک نئی امریکی سیاسی جماعت "امریکا پارٹی” کے قیام کا اعلان کیا، تو یہ خبر سیاسی منظرنامے میں زلزلہ بن کر آئی۔ مگر یہ انقلابی قدم کاروباری دنیا کے لیے ہچکولے لانے والا ثابت ہوا۔ برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق، پیر کی صبح جیسے ہی اسٹاک مارکیٹ کھلی، ٹیسلا کے حصص 7.5 فیصد گر گئے، اور یوں کمپنی کی مجموعی مالیت میں تقریباً 76 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ سرمایہ کاروں میں یہ خدشہ سر اٹھانے لگا کہ اگر ایلون مسک کی توجہ سیاست میں زیادہ الجھ گئی، تو ان کی کمپنیوں، بالخصوص ٹیسلا، کی سمت متاثر ہو سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حسبِ روایت شدید تنقید کرتے ہوئے ایلون مسک کو سوشل میڈیا پر نشانے پر لے لیا۔ انہوں نے لکھا:
"ایلون مسک پٹڑی سے اتر چکے ہیں، اب وہ صرف ایک تباہ حال ٹرین کی مانند ہیں۔”
دوسری جانب ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابق ٹوئٹر) پر ایک جاندار اور معنی خیز پیغام میں کہا:
"ہم ایک جماعتی نظام میں جی رہے ہیں، جمہوریت میں نہیں۔ ’امریکا پارٹی‘ آپ کو آپ کی آزادی واپس دلانے کے لیے بنائی گئی ہے۔”

یہ بیان گویا ایک نئے نظریاتی انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ لیکن سرمایہ کاروں کے چہروں پر تشویش کے سائے گہرے ہو چکے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ کیا یہ سیاسی خواب، صنعتی حقیقتوں کو متاثر کرے گا؟ یا ایلون مسک ایک نیا باب رقم کریں گے جس میں سیاست اور کاروبار کا سنگم ایک نیا راستہ دکھائے گا؟







Discussion about this post