ہم لیاری والے ہیں۔ ہم نے سیلاب، جرائم اور غربت سب جھیلا ہے۔ مگر یہ گرمی اور اس میں بجلی نہ ہونا ایک الگ ہی اذیت ہے۔ خاموش اذیت۔ نہ کوئی دیکھتا ہے، نہ کوئی آتا ہے۔پاکستان بھر کے لاکھوں شہریوں کے لیے 2026 کی گرمی ایک گھٹن بھرا موسم بن چکی ہے جہاں شدید گرمی اور مسلسل اندھیرا معمول بن گیا ہے۔ کئی علاقوں میں پہلے ہی روزانہ 10 سے 14 گھنٹے کی طے شدہ لوڈشیڈنگ جاری ہے، مگر اس پر مزید اضافہ غیر اعلانیہ اور غیر منصوبہ بند بلیک آؤٹس نے کر دیا ہے، جو کسی بھی وقت بغیر اطلاع آ گرتے ہیں اور ایک قابلِ برداشت مشکل کو روزمرہ کی ہنگامی صورتحال میں بدل دیتے ہیں۔

ایک ایسا شیڈول جس کی کوئی حیثیت نہیں
لوڈشیڈنگ کے شائع شدہ اوقات کا مقصد پیشگی آگاہی دینا تھا، مگر اب یہ محض ایک رسمی کارروائی بن چکے ہیں۔ اکثر بجلی کی بندشیں اعلان کردہ وقت سے کئی گھنٹے زیادہ جاری رہتی ہیں، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں لوگ 18 یا اس سے بھی زیادہ گھنٹے بجلی سے محروم رہتے ہیں۔ کراچی کے قدیم اور گنجان آباد علاقوں میں سے ایک لیاری کے مکین کہتے ہیں کہ شیڈول صرف کاغذوں تک محدود ہے۔تین بچوں کی والدہ نادیہ بلوچ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی متبادل نہیں، نہ جنریٹر نہ کچھ اور۔ میرا ایک نومولود بچہ ہے۔ میں رات دو بجے اندھیرے میں اسے پنکھا جھلتی رہی یہاں تک کہ میرا بازو سن ہو گیا۔
غیر اعلانیہ بندشیں: سب سے بڑا عذاب
غیر متوقع بجلی کی بندشیں ہی لوگوں کو توڑ دیتی ہیں۔ یہ بغیر کسی اطلاع کے ہوتی ہیں ۔کھانے کے دوران، کام کے بیچ میں، یا رات کی گہری نیند میں۔ ایک ایسے شہر میں جہاں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، آدھی رات کو بجلی کا اچانک چلا جانا محض تکلیف نہیں بلکہ صحت کے لیے خطرہ ہے۔ بزرگ، نومولود بچے، گھروں میں طبی آلات پر انحصار کرنے والے مریض اور امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ لیاری کی حاجرہ بی بی گھریلو خاتون ہیں جن کا کہنا ہے کہ میرے شوہر ذیابیطس کے مریض ہیں، انسولین کو ٹھنڈا رکھنا ضروری ہے۔ جب رات 2 بجے بغیر اطلاع بجلی چلی جاتی ہے تو ہم گھبرا جاتے ہیں۔ ہماری دوا ضائع ہو چکی ہوتی ہے ۔ میں 60 سال کی ہوں، میں نے لیاری کو کبھی اس حال میں نہیں دیکھا۔

ہر زندگی متاثر، ہر جیب خالی
طے شدہ اور غیر طے شدہ لوڈشیڈنگ کا دوہرا بوجھ لیاری کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ چھوٹے تاجر ہر غیر متوقع بندش پر خراب ہونے والا سامان کھو دیتے ہیں۔ طلبہ پڑھ نہیں پاتے۔ گھروں میں کام کرنے والے افراد، جو لیاری کی غیر رسمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ان کا روزگار ٹھپ ہو جاتا ہے۔ جو لوگ باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں، وہ بھی ان ہی مشکلات کا شکار ہیں جو نہیں کرتے۔دکاندار عمران بلوچ کہتے ہیں کہ میں برف کا ٹھیلہ لگاتا ہوں۔ جب اچانک بجلی جاتی ہے تو سب کچھ پگھل جاتا ہے۔ میں وقت پر بل ادا کرتا ہوں، پھر بھی 14 گھنٹے اندھیرے میں کیوں بیٹھوں؟ میں جنریٹر نہیں خرید سکتا، بمشکل گزارا ہو رہا ہے۔
آن لائن کلاسز، آف لائن طلبہ
یہ بحران خاص طور پر طلبہ کے لیے شدید ہے، جن کے اسکول اور جامعات آن لائن تعلیم کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔ لیاری میں جہاں انٹرنیٹ پہلے ہی غیر مستحکم ہے، وہاں طویل لوڈشیڈنگ ورچوئل کلاس میں شرکت کو تقریباً ناممکن بنا دیتی ہے۔ لیکچر کے دوران لیپ ٹاپ بند ہو جاتے ہیں، موبائل ڈیٹا ختم ہو جاتا ہے کیونکہ طلبہ فون کو ہاٹ اسپاٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ والدین جنہوں نے بچوں کی تعلیم کے لیے سیکنڈ ہینڈ ڈیوائسز خریدیں، وہ چند گھنٹوں میں بے کار ہو جاتی ہیں۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ، جو پہلے ہی بورڈ امتحانات کے دباؤ میں ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ نہ ڈیوائس چارج کرنے کے لیے بجلی، نہ مستحکم انٹرنیٹ، نہ پڑھنے کے لیے پرسکون یا ٹھنڈا ماحول، ڈیجیٹل تعلیم کا خواب لیاری کی گلیوں میں ایک مذاق بن چکا ہے۔ میڑک کی طالبہ ثنا کا کہنا ہے کہ میں بورڈ کے امتحان کی تیاری کے لیے رات کو پڑھتی ہوں کیونکہ اس وقت گرمی کم ہوتی ہے۔ مگر بجلی آتی جاتی رہتی ہے۔ میں موبائل کی روشنی میں پڑھتی ہوں جب تک بیٹری ختم نہ ہو جائے۔ اب ٹیچر کہتی ہیں کہ آن لائن کلاس جوائن کرو، کس بجلی سے؟ مجھے صرف دو گھنٹے مسلسل بجلی چاہیے۔

حکام گردشی قرضے اور بوسیدہ نظام کو اس بحران کی وجہ قرار دیتے ہیں، جو یقیناً ایک حقیقت ہے، مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ بل ادا کرنے والے شہریوں کو بغیر اطلاع بجلی کیوں بند کی جاتی ہے، نہ کوئی معاوضہ دیا جاتا ہے، اور نہ ہی بہتری کے لیے کوئی واضح وقت دیا جاتا ہے۔ شمیم کہتی ہیں کہ میں پندرہ سال سے اس علاقے میں کپڑے سی رہی ہوں، میرا کام بند ہو گیا ہے۔ ۔ اس کا جواب کون دے گا؟ کوئی نہیں۔ میں اپنے چار بچوں کو کس طرح پالوں ؟

بنیادی عزت کا مطالبہ
لیاری کے لوگ عیش و عشرت نہیں مانگ رہے، وہ صرف یہ جاننے کا حق مانگ رہے ہیں کہ ان کی بجلی کب جائے گی۔ اگر لوڈشیڈنگ ناگزیر ہے تو وہ ایماندار، قابلِ پیشگوئی اور منصفانہ ہونی چاہیے۔ اس شدید گرمی میں، پہلے سے طے شدہ طویل بندشوں پر غیر اعلانیہ کٹوتیوں کا اضافہ ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتا ہے جو عام شہریوں کے سامنے جوابدہی کھو چکا ہے۔ رخسانہ اسکول ٹیچر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ میری ماں کہا کرتی تھی کہ لیاری کے لوگ فولاد کے بنے ہوتے ہیں۔ شاید یہ سچ ہے۔ مگر فولاد بھی زیادہ گرمی میں پگھل جاتا ہے۔ ہم بھی پگھل رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ، خاموشی سے، اور کسی کو خبر تک نہیں۔ یہی سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ہے۔ جب تک یہ صورتحال نہیں بدلتی، اندھیرا صرف بجلی کا نہیں ہوگا بلکہ ریاست کی اپنے عوام کے ساتھ ناکامی کی عکاسی کرے گا۔ لیاری کی گلیاں، جو پہلے ہی دہائیوں کی نظراندازی کا شکار ہیں، اس سے بہتر سلوک کی حقدار ہیں۔

لیاری کے لوگ بلا تعطل بجلی نہیں مانگ رہے، وہ صرف سچائی مانگ رہے ہیں، ایسی لوڈشیڈنگ جو وقت پر ہو، نہ کہ گھنٹوں پہلے یا بعد میں، یا رات کی تاریکی میں بغیر کسی اطلاع کے۔ حکام اور حکومت جو 42 ڈگری کی گرمی میں اپنے شہریوں کو یہ بنیادی حق بھی نہ دے سکے، وہ اپنی بنیادی ذمہ داری میں ناکام ہو چکی ہے۔

لیاری نے سیلاب، تشدد اور نظراندازی سب کچھ برداشت کیا ہے۔ مگر گرمی میں اندھیرے میں پسینہ بہانا، بچوں کا آن لائن کلاسز سے محروم ہونا، تاجروں کا سامان خراب ہونا، اور ماؤں کا رات دو بجے بچوں کو پنکھا جھلنا، یہ ایک خاموش ظلم ہے، اور اس کا جواب بلند آواز میں مانگا جانا چاہیے۔







Discussion about this post