جامعہ کراچی ایک بار پھر سوگ میں ڈوب گیا۔ سماجی بہبود سالِ دوئم کی طالبہ انیقہ سعید افسوسناک حادثے میں اپنی جان کی بازی ہار گئیں۔عینی شاہدین کے مطابق، یہ دلخراش واقعہ شعبہ ریاضیات کے سامنے اس وقت پیش آیا جب انیقہ پوائنٹ سے اُتر رہی تھیں کہ اچانک ڈرائیور نے بس چلا دی۔نتیجتاً وہ پھسل کر زمین پر گر گئیں اور بس کے ٹائروں تلے آ کر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔ پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق، طالبہ کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے شعبہ ٹرانسپورٹ کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور واقعے کے ذمہ دار ڈرائیور کو معطل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے جاں بحق طالبہ کی مغفرت اور والدین سے دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ سانحہ ایک بار پھر جامعہ کراچی کے ناقص ٹرانسپورٹ نظام کو بے نقاب کر گیا۔ جامعہ کے پاس 1980 تا 2000 ماڈل کی پرانی بسیں موجود ہیں، جن کے دروازے اکثر چلتی بس کے دوران بھی کھلے رہتے ہیں۔

45 ہزار سے زائد طلبہ کے لیے صرف 30 بسوں کا ہونا ایک تشویشناک صورتحال ہے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ جامعہ انتظامیہ کو بارہا ٹرانسپورٹ کی خستہ حالت کے بارے میں آگاہ کیا گیا، مگر کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔یہ حادثہ ایک سوال یہ بھی چھوڑ گیا ہے۔کیا جامعہ کراچی جیسے بڑے تعلیمی ادارے میں ایک طالبہ کی جان کا بھاؤ ایک پرانی بس سے بھی کم ہے؟ انیقہ سعید کا حادثہ صرف ایک المناک واقعہ نہیں ، یہ نظام کی غفلت پر ایک سنگین الزام ہے۔







Discussion about this post