سندھ ہائی کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی سے متعلق جامعہ کراچی کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک شخص کی پوری زندگی کی محنت اور مقام کو صرف یکطرفہ فیصلے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں رجسٹرار جامعہ کراچی پروفیسر عمران صدیقی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران رجسٹرار نے مؤقف اپنایا کہ جامعہ کو حال ہی میں نوٹس موصول ہوا ہے، لہٰذا جواب کے لیے مہلت دی جائے۔ اس پر جسٹس اقبال کلہوڑو نے استفسار کیا کہ "اگر اس دوران درخواست گزار کے خلاف مزید کوئی کارروائی ہوگئی تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟”

بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت سے استدعا کی کہ فریقین کو جواب کے لیے مہلت ضرور دی جائے، تاہم تب تک ڈگری منسوخی کا حکم معطل کیا جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ "یہ ایک انسان کی پوری زندگی کا معاملہ ہے۔ اگر 30، 35 سال بعد کوئی درخواست دی جاتی ہے تو متاثرہ فریق کو لازمی طور پر سنا جانا چاہیے۔ فریقین کو سنے بغیر کیے گئے فیصلے کی قانونی حیثیت کمزور ہوتی ہے، اور یکطرفہ فیصلے کو بہتر عدالتی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔” بعد ازاں عدالت نے جامعہ کراچی کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 20 نومبر تک ملتوی کر دی۔ یاد رہے کہ جامعہ کراچی نے 26 ستمبر کو جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ایل ایل بی ڈگری منسوخ کر دی تھی، جسے جسٹس طارق نے عدالت میں چیلنج کیا۔







Discussion about this post