وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے ترجمان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ بیان پر پیدا ہونے والی بحث کی مکمل وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے کسی فرد یا گروہ کو کوئی دھمکی نہیں دی، بلکہ ان کا پیغام بالکل واضح اور قانونی تھا کہ انتخابات میں مداخلت ایک جرم ہے اور ایسی کسی بھی کوشش پر سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہوگی۔ ان کا مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ الیکشن کے دوران غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ ہری پور میں وزیراعلیٰ کے اس بیان کو غلط رنگ دے کر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے، حالانکہ انہوں نے صرف آئینی تقاضوں کی نشاندہی کی تھی کہ شفاف اور منصفانہ الیکشن یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وزیراعلیٰ کا مؤقف اصولی اور قانونی ہے، اسے دھمکی یا کسی پیش گوئی کے طور پر پیش کرنا سراسر حقیقت کے خلاف ہے۔







Discussion about this post