خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک خوش آئند موڑ سامنے آیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے امن و امان کے قیام کے لیے بڑی سیاسی یکجہتی کی راہ ہموار کرتے ہوئے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے باہمی تعاون کی پیشکش کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے مولانا فضل الرحمٰن، آفتاب شیرپاؤ، ایمل ولی خان، سراج الحق، امیر مقام، اور محمد علی شاہ باچا سمیت مختلف سیاسی قائدین سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور انہیں صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے حکومت کے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ اسی تسلسل میں، گورنر ہاؤس اور وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے درمیان سرد مہری کی فضا بھی ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کرکے انہیں سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی، جو گورنر نے خوش دلی سے قبول کر لی۔

گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ آفریدی کی جانب سے "امن جرگہ” بلانے کا فیصلہ سامنے آیا تھا . ایک ایسا اجلاس جس میں سابق وزرائے اعلیٰ، گورنرز، علمائے کرام، مشران، وکلا، سول سوسائٹی اور دیگر اہم شخصیات کو شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ صوبے کے امن کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔ دوسری جانب، وزیرِ اعلیٰ ہاؤس پشاور میں تحریکِ انصاف کی اعلیٰ قیادت کا ایک اہم اجلاس بھی ہوا، جس میں چیئرمین بیرسٹر گوہر، سہیل آفریدی، اسد قیصر، جنید اکبر اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہنگو بم دھماکے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا، شہید پولیس اہلکاروں کے لیے دعا کی گئی، اور پولیس کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو خیبر پختونخوا میں بین الجماعتی تعاون اور سیاسی بلوغت کی مثبت مثال قرار دے رہے ہیں۔ اگر یہ ہم آہنگی برقرار رہی تو صوبے میں امن، استحکام اور ترقی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔







Discussion about this post