خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے وفاقی حکومت پر حالیہ دہشت گردی کی لہر کا الزام لگاتے ہوئے بلٹ پروف گاڑیاں واپس کرنے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ یہ گاڑیاں اب بلوچستان حکومت کے حوالے کی جائیں گی۔ سہیل آفریدی نے پیر کے روز کہا تھا کہ وفاق نہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے فنڈز دے رہا ہے اور نہ صوبے کے دیگر آئینی حقوق کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وزیر داخلہ کی جانب سے فراہم کی گئیں بلٹ پروف گاڑیاں ’’خراب اور پرانی‘‘ ہیں، اس لیے انہیں واپس کرنے کا حکم دیا گیا۔
CM Sahib done. These bullet-proof vehicles will be sent to Balochistan immediately to enhance counter-terrorism efforts. Thank you for raising this https://t.co/M8Hzc4UoAB
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) October 22, 2025
دوسری جانب، بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے منگل کی شب ایکس (Twitter) پر لکھا کہ بلوچستان بھی دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہے، لہٰذا اگر کے پی گاڑیاں لینے سے انکار کر رہا ہے تو انہیں بلوچستان کو منتقل کیا جائے۔ بدھ کو محسن نقوی نے بگٹی کی پوسٹ کے جواب میں گاڑیاں بلوچستان بھیجنے کی یقین دہانی کرا دی۔اسی معاملے پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سکیورٹی اداروں کی قربانیاں ’’سیاسی پوائنٹ اسکورنگ‘‘ کی نذر کی جا رہی ہیں۔ ان کے بقول ’’ضروری سامان واپس کرنا صرف وفاقی حکومت کو کمزور دکھانے کی کوشش ہے‘‘۔ یاد رہے کہ نومبر 2022 میں ٹی ٹی پی کے سیز فائر ختم کرنے کے بعد سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے اور انہی زمینی حالات کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز اور سول انتظامیہ کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کا استعمال اہم سمجھا جاتا ہے۔
خیبرپختونخواہ کی طرح بلوچستان بھی دہشت گردی سے متاثر ہے۔ وزیر داخلہ @MohsinNaqvi42 سے درخواست ہے کہ اگر خیبرپختونخواہ حکومت بلٹ پروف گاڑیاں لینے سے انکار کر رہی ہے تو انہیں حکومت بلوچستان کو منتقل کر دیا جائے تاکہ دہشت گردی کا مؤثر مقابلہ کیا جاسکے ۔
— Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) October 21, 2025







Discussion about this post