خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی میز پر یہ اصول نہایت صاف الفاظ میں رکھا گیا تھا کہ افغان مٹی پاکستان مخالف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو گی اور نہ ہی ٹی ٹی پی کو وہاں سہولت کاری میسر آئے گی۔خواجہ آصف کے مطابق پاکستان کی جانب سے یہ موقف بارہا دہرایا گیا، مگر کابل انتظامیہ مسلسل اس کی تردید کرتی رہی۔
انہوں نے بتایا کہ ترکیہ اور قطر نے ثالثی کے دوران اس بنیادی نکتے پر روشنی ڈالی کہ تنازع کی جڑ یہی ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان کی سرحدوں کے اندر پناہ، سرپرستی اور کارروائی کی گنجائش حاصل ہے۔وزیرِ دفاع نے دو ٹوک دعویٰ کیا کہ ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور ہمارے پاس اس کے مستند ثبوت موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان حکام پر واضح کر دیا کہ جنگ بندی ایک ہی شرط سے مشروط ہے اگر اس پر حرف آیا تو پھر کسی توسیع یا تاخیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔خواجہ آصف نے کہا کہ جب تک معاہدے کی روح پامال نہیں کی جاتی، ہمارے درمیان سیز فائر برقرار رہے گا، یہ امن بندی کسی کیلنڈر، کسی تاریخ، اور کسی ڈیڈ لائن سے بندھی ہوئی نہیں صرف ایک شرط سے بندھی ہوئی ہے۔








Discussion about this post