وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں کے باعث پانی کا خطرہ وقتی طور پر کم ضرور ہوا ہے، لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، اور دوبارہ سیلاب آنے کا خدشہ موجود ہے۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ سیالکوٹ میں گزشتہ روز تقریباً ساڑھے تین سو ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو 1976 کے بعد پہلی مرتبہ اس شدت کی بارش ہے۔ ان کے مطابق ماضی قریب میں اتنی بارش کی مثال نہیں ملتی۔
بھارتی پانی اور ممکنہ خطرات
انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے پہلے ہی دو بار پانی چھوڑا جا چکا ہے اور مزید بارشوں کی صورت میں مزید پانی چھوڑنے کا امکان ہے۔ اس وقت پانی بڑی حد تک اتر چکا ہے، لیکن نالوں کے قریب موجود گھروں میں اب بھی پانی کھڑا ہے۔ خواجہ آصف نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مقامی شہریوں کے مطابق بھارت سے آنے والے پانی میں بھارتی شہریوں کی لاشیں بھی بہہ کر آئی ہیں۔
رکاوٹیں اور مشکلات
ان کا کہنا تھا کہ پانی کے دیر تک کھڑا رہنے کی بڑی وجہ مویشیوں کی لاشیں اور کوڑا کرکٹ ہے، جس نے نکاسیٔ آب کے عمل کو متاثر کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ موجودہ صورتحال نے انتظامی تیاریوں کی کمی کو واضح کیا ہے۔
مستقبل کے لیے اقدامات
خواجہ آصف نے کہا کہ جب تک شہروں اور نالوں پر ہونے والی انکروچمنٹس ختم نہیں کی جائیں گی اور سیوریج کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہیں کی جائیں گی، اس طرح کی صورتحال برقرار رہے گی۔ انہوں نے میونسپل کارپوریشن کو ہدایت دی ہے کہ نکاسیٔ آب کا عمل تیز کیا جائے تاکہ شہریوں کو جلد ریلیف مل سکے۔







Discussion about this post