بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی صحت بدستور تشویشناک ہوتی جا رہی ہے، اور تازہ اطلاعات کے مطابق انہیں سانس لینے میں شدید دشواری کے باعث وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق خالدہ ضیا کو نہ صرف سانس کی تکلیف لاحق ہے بلکہ متعدد طبی پیچیدگیاں بھی سامنے آ رہی ہیں، جس نے ان کی حالت کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ میڈیکل بورڈ نے بتایا کہ 80 سالہ سابق وزیراعظم کے دل اور پھیپھڑوں کی حالت مسلسل غیر مستحکم ہے، اسی لیے ان کے نظامِ تنفس سمیت دیگر اہم اعضا کو سپورٹ فراہم کرنے کے لیے وینٹی لیٹر کا سہارا لینا ناگزیر ہو گیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق ان کے دل میں پہلے سے پیس میکر نصب ہے جبکہ وہ ماضی میں اسٹنٹس بھی لگوا چکی ہیں، جس وجہ سے ان کی مجموعی طبی حالت خاص توجہ کی متقاضی ہے۔ خالدہ ضیا 23 نومبر سے ایورکیئر اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں وہ دل اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث مسلسل نگرانی میں ہیں۔

مئی میں لندن سے علاج مکمل کر کے وطن واپسی کے بعد سے وہ باقاعدہ طبی معائنوں سے گزر رہی تھیں، تاہم حالیہ بگڑتی ہوئی صورتحال نے اسپتال میں خصوصی دیکھ بھال ضروری بنا دی ہے۔ ان کے اہلِ خانہ، جن میں طارق رحمان اور زبیدہ رحمان شامل ہیں، ڈاکٹرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور خالدہ ضیا کی صحت کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ آگاہی حاصل کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم مقام رکھنے والی اس رہنما کی بگڑتی ہوئی طبی حالت نے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اور ہر جانب سے ان کی صحت یابی کے لیے دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔







Discussion about this post