کراچی کی پولیس نے ایک تاریخی اور بہادرانہ کارروائی کرتے ہوئے شہر کے تاریک ترین کونوں سے دو درندہ صفت ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ مرکزی ملزم عمران اور اس کا ساتھی وقاص خان، جن کے ہاتھوں سینکڑوں معصوم بچوں کی بے گناہی لوٹ لی گئی تھی، اب قانون کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ محض ایک گرفتاری نہیں، بلکہ چھ سالہ طویل اور پیچیدہ تفتیش کا شاندار نتیجہ ہے۔ مختلف اضلاع سے درج ہونے والے سات مقدمات میں ایک ہی ڈی این اے کی بازگشت سنائی دی، جو اس بات کا بین ثبوت تھی کہ ایک ہی شیطان مسلسل 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا رہا تھا۔ کبھی تنہا، کبھی اپنے ساتھی کے ہمراہ، یہ وحشی پن جاری رہا، مگر اب پولیس کی بے لوث محنت رنگ لا چکی ہے۔ ایس پی انویسٹی گیشن عثمان سدوزئی کی قیادت میں، اور ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی خصوصی ٹیم نے صرف گیارہ دنوں میں یہ ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔

متاثرہ بچے کی ہمت اور نشاندہی پر ٹیپو سلطان کے علاقے میں چھاپہ مار کر انہیں دھر دبوچا گیا۔ مرکزی ملزم عمران، جو منظور کالونی میں پنکچر کا ٹھیلا لگاتا تھا، نے اعتراف کیا کہ چھ سالوں میں اس نے درجنوں، بلکہ سینکڑوں معصوموں کو موٹرسائیکل کا لالچ دے کر ملیرنڈی کے قریب لے جا کر ان کی زندگیاں تباہ کیں۔ تین بچوں نے اسے پہچان لیا، جبکہ ایک نے تو دونوں ملزمان کو واضح طور پر شناخت کر کے انصاف کی راہ ہموار کی۔ ایک کیس میں تو بچے کے شور مچانے پر یہ دونوں درندے سرجانی سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے، مگر قسمت نے آج انہیں انصاف کے سامنے لا کھڑا کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس کامیابی پر پولیس کو سراہا اور دوٹوک کہا کہ بچوں سے زیادتی جیسا گھناہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اسے کراچی پولیس کی سب سے بڑی فتح قرار دیا اور ہدایت کی کہ باقی متاثرین کو تلاش کیا جائے، کیس کو ناقابلِ تسخیر شواہد کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے، اور روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت رپورٹ طلب کی جائے۔ یہ لمحہ محض ملزمان کی گرفتاری کا نہیں، بلکہ معصوم بچوں کے لیے امید کی کرن، قانون کی بالادستی کا اعلان، اور ہر اس درندے کے لیے واضح پیغام ہے کہ سندھ کی حکومت اور پولیس بچوں کے تحفظ کے لیے ڈٹ کر کھڑی ہے۔ اب شہر میں کسی وحشی کی کوئی جگہ نہیں رہی۔ انصاف کا پیمانہ اب بھر چکا ہے، اور سزا کا وقت قریب ہے۔






Discussion about this post