کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ (جنوبی) میں ایک بھارتی فلم کے خلاف سنگین نوعیت کی درخواست دائر کر دی گئی، جس میں فلم پر سیاسی جماعت اور حساس علاقوں کو بدنام کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ درخواست گزار محمد عامر نے عدالت کو بتایا کہ بھارتی فلم دھریندر کے ٹریلر میں پاکستان پیپلز پارٹی کو دہشت گردوں کی ہمدرد کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جبکہ لیاری جیسے تاریخی اور عوامی علاقے کو دہشت گردی کا وار زون دکھایا گیا۔ درخواست کے مطابق فلم میں سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی تصاویر اور پیپلز پارٹی کے جھنڈے بھی بغیر اجازت استعمال کیے گئے، جو نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ قابلِ اعتراض عمل ہے۔ درخواست میں بھارتی فلم کے ڈائریکٹر، پروڈیوسر، اداکاروں اور دیگر متعلقہ افراد کو مجوزہ ملزمان نامزد کیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ پولیس افسران کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ یہ درخواست محمد عامر کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعات 22-A اور 22-B کے تحت دائر کی گئی، جس میں انہوں نے خود کو پاکستان پیپلز پارٹی کا کارکن بھی قرار دیا۔

محمد عامر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 10 دسمبر کو وہ درخشاں پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ایک کیفے میں موجود تھے، جہاں انہوں نے سوشل میڈیا پر فلم کا ٹریلر اور پروموشنل مواد دیکھا، جس نے انہیں شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ درخواست گزار کے مطابق فلم میں پارٹی کی قیادت، جھنڈے اور جلسوں کی ویڈیوز کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ جیسے پیپلز پارٹی دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی ہو، جو سراسر جھوٹ، من گھڑت اور منفی پروپیگنڈا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مواد کے ذریعے پارٹی، اس کے حامیوں اور قیادت کے خلاف نفرت اور دشمنی کو ہوا دی گئی۔درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ فلم سے وابستہ مجوزہ ملزمان مواد کی تیاری، پروڈکشن اور تشہیر کے ذمہ دار ہیں، اور یہ عمل بدنامی، اشتعال انگیزی، فسادات کی ترغیب اور مختلف گروہوں کے درمیان نفرت پھیلانے جیسے سنگین جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ متعلقہ ایس ایچ او کو فوری طور پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے اور اس معاملے کی شفاف تفتیش سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (جنوب) کی نگرانی میں کرائی جائے۔






Discussion about this post